جہالت اور ایمان کی کمزوری نے ایک اور گھر کو رسوا کردیا ۔۔۔ سکھر کے ایک نواحی گاؤں کے بزرگ میاں بیوی کو ایک پیر صاحب سے بہت عقیدت تھی ، پیر صاحب اس مرید کو خصوصی شرف بخشتے اور 2 ہفتے اور مہینہ مہینہ انکے گھر بیٹھک میں قیام پذیر رہتے ، بابا جی کی سوچ دیکھیں کہ اپنی 13 سالہ بیٹی کو پیر صاحب کو کھانا دینے اور خدمت پر مامور کررکھا تھا ، ظاہر ہے اس دوران پیر صاحب نے گیم ڈال دی ہو گی ، کچھ روز پہلے پیر صاحب حسب معمول آئے کھانا کھایا چائے پی اور چلے گئے لیکن تھوڑی دیر بعد اس بیمار بزرگ کی بیٹی گھر سے نکلی اور ابھی تک اسکا کچھ پتہ نہیں ، گاؤں کے کچھ لوگوں نے بچی کو پیر صاحب کی سفید کار میں بیٹھتے دیکھا ۔ معاملہ پولیس کے پاس پہنچ چکا ہے ، پیر صاحب کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جارہی ہے ، امید ہے اگر پیر صاحب پہنچے ہوئے نہ نکلے تو بچی بازیاب ہو جائیگی لیکن اس واقعہ میں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اعتبار کا زمانہ نہیں اور پرانے زمانوں والے پیر فقیر اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں اس لیے اپنے اہل خانہ اور بچوں کا خیال رکھیں، اللہ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے آمین

Comments
Post a Comment