پنجاب پولیس کا وہ اصلی حاجی تھانیدار جس نے پوری زندگی ایک پائی کی بھی رشوت نہ لی اور نہ دی

پنجاب پولیس کا وہ اصلی حاجی تھانیدار جس نے پوری زندگی ایک پائی کی بھی رشوت نہ لی اور نہ دی ۔۔۔۔ ایس ایچ او کی بکری کا دلچسپ واقعہ

نوجوانی میں محمد شریف پولیس میں بھرتی ہوئے تو میڈیکل کلیئر کروانے کے 5 روپے ان سے طلب کیے گئے ، انہوں نے جواب دیا ان فٹ کرنا ہے تو کردو رشوت نہیں دونگا ، اللہ نے مدد کی یہ سیلیکٹ ہو گئے ، پھر محکمے میں مختلف منازل طے کرنے کے دوران ان کا بار بار رشوت خوروں سے واسطہ پڑا لیکن یہ ہر بار ڈٹ گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ راشی لوگ انکو دیکھ لیتے تو سامنا کرنے سے گھبراتے اور محمد شریف پر مشکل سے گزرتے جاتے ۔ انکی ایمانداری اور لین دین سے گریز نے انہیں محکمے اور عوامی حلقوں میں حاجی مشہور کردیا ۔ حاجی محمد شریف دن میں صرف دو بار چائے پیتے اور وہ بھی اپنی بکری کے دودھ کی ۔ یہ جس تھانے میں جاتے انکی بکری انکے ساتھ ہوتی اور تھانے کے اندر یا باہر کسی درخت کے نیچے بندھی رہتی ۔ جب حاجی محمد شریف کھاریاں میں ایس ایچ او تھے تو انکی بکری تھانے کی حدود سے باہر ایک درخت کے نیچے بندھی تھی کہ ایک نوجوان چارے کی گڈھ لے کر آیا اور بکری کے سامنے رکھ دی ، بکری نے جی بھر کے چارہ کھایا ۔ حاجی صاحب کسی کام سے تھانے سے نکلے تو دیکھا بکری کے سامنے ڈھیروں چارہ پڑا ہے انہوں نے ایک ہوٹل والے سے پوچھا یہ چارہ کس نے ڈالا ہے تو اس نے ایک نوجوان کی طرف اشارہ کیا ، حاجی محمد شریف نے اس نوجوان کو پاس بلایا اور معاملہ دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہ نوجوان اپنے ایک مخالف کو پھینٹا لگوانے کے لیے حاجی صاحب سے تعلق بنانا اور خوشنودی حاصل کرنا چاہتا تھا حاجی صاحب نے اس ملازم کو جو کہ بکری کا خیال رکھتا اور دودھ دوہتا تھا ، ہدایت کی کہ آج بکری کا دودھ دوہ کر اس نوجوان کے گھر پہنچا دینا کیونکہ اس دودھ کا ایک قطرہ بھی مجھ پر حرام ہے ۔۔۔ اس نوجوان کو بھی کہا کبھی کوئی جائز مسئلہ پریشانی ہو تو میں حاضر لیکن ناجائز کام کے لیے کبھی مجھے تھانے کے آس پاس بھی نظر نہ آنا ورنہ بہت برا پیش آؤنگا ۔۔۔۔۔۔۔
حاجی محمد شریف کا ایک بار کسی تھانے میں اچانک ان حالات میں تبادلہ ہوا کہ ان سے پہلے والا تھانیدار مقامی جاگیردار سے تعاون نہیں کررہا تھا ،اس تھانے کا انچارج بنتے ہی انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ فلاں جاگیردار کو سلام کر آئیں ، انہوں نے جواب دیا ایسی حاضریاں اور پیشیاں میرا مزاج نہیں ، پانچ وقت اللہ کے سامنے حاضر ہونے کے بعد میں صرف اپنے افسران بالا کے سامنے پیش ہونے کا پابند ہوں.
حاجی محمد شریف کے حج کی سعادت حاصل کرنے کا واقعہ بڑا دلچسپ اور سبق آموز ہے ۔ علاقے کے کسی معزز شخص کو انہوں نے کسی مصیبت سے نکالا تھا اور اسکے بعد وہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا ، پھر وہ شخص بیرون ملک سیٹل ہوگیا اور اسکا کاروبار بہت پھلا پھولا.
اس نے حاجی صاحب سے رابطہ کرکے کہا کہ آپ حج پر جانے کی تیاری کریں تمام اخراجات میں اٹھاؤنگا مگر حاجی صاحب نے معذرت کر لی ، اس بات کا حاجی محمد شریف کے بزرگوں یعنی تبلیغی مرکز والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ یہ اسباب آپ کے لیے اللہ کا بلاوا ہے ۔ اس لیے نخرے نہ کریں ۔ اس طرح حاجی صاحب کے حامی بھرنے پر اس نیک دل شخص نے سب انتظامات مکمل کیے اور ایک روز محمد شریف مقدس سرزمین ، خانہ کعبہ اور روضہ رسول ؐ کے سامنے حاضری لگوانے پہنچ گئے.

Comments