ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان اختلافات اچانک نہیں بلکہ

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان اختلافات اچانک نہیں بلکہ

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان اختلافات اچانک نہیں بلکہ حالات کے دباؤ اور پالیسی فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ یہ معاملہ بنیادی طور پر جوہری پھیلاؤ، عالمی دباؤ اور ذمہ داری کے تعین سے جڑا ہوا تھا۔
اصل اختلاف کی جڑ 2003–2004 میں سامنے آنے والا جوہری پھیلاؤ (Nuclear Proliferation) کا اسکینڈل تھا۔ اس وقت دنیا بھر میں یہ الزام لگایا گیا کہ پاکستان کی جوہری ٹیکنالوجی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا تک پہنچی ہے۔ امریکا اور مغربی طاقتوں نے اس معاملے پر پاکستان پر شدید دباؤ ڈالا۔
جنرل پرویز مشرف اُس وقت ملک کے صدر اور فوجی حکمران تھے۔ عالمی دباؤ سے بچنے اور ریاست کو ممکنہ پابندیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مشرف حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ کام ریاستی پالیسی نہیں تھا بلکہ ایک فرد کی ذاتی کارروائی تھی۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سامنے لایا گیا۔
فروری 2004 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹی وی پر آ کر یہ بیان دیا کہ جو کچھ ہوا، وہ ان کی ذاتی غلطی تھی۔ اسی کے فوراً بعد انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ یہاں سے دونوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ ڈاکٹر قدیر کا خیال تھا کہ وہ برسوں ریاست کی اجازت اور علم کے ساتھ کام کرتے رہے، اس لیے سارا الزام صرف ان پر ڈالنا ناانصافی ہے۔
بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب “In the Line of Fire” میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر سخت الزامات لگائے اور انہیں جوہری پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان شدید دل گرفتہ ہوئے اور انہوں نے مختلف مواقع پر یہ تاثر دیا کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا۔
یوں یہ اختلاف ذاتی کم اور زیادہ تر ریاستی مفاد، عالمی دباؤ اور بیانیے کی جنگ کا نتیجہ تھا۔ ایک طرف جنرل مشرف تھے جو پاکستان کو عالمی تنہائی سے بچانا چاہتے تھے، اور دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے جو خود کو محسنِ پاکستان سمجھتے تھے اور یکطرفہ الزام کو قبول کرنے پر دل سے مطمئن نہیں تھے۔
اسی وجہ سے پاکستان کی تاریخ میں یہ معاملہ آج بھی ایک حساس، متنازع اور غیر حل شدہ باب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

Comments