لودھراں میں بارات کے انتظار میں بیٹھی ایک معصوم دلہن کے ساتھ جو ہوا، اس نے پورے شہر کی روح کانپا کر رکھ دی
لودھراں میں مرزا ناصر بیگ پیٹرول پمپ کے قریب ایک بیوٹی پارلر میں جب ایک دلہن اپنی زندگی کے سب سے بڑے دن کے لیے تیار ہو رہی تھی، آنکھوں میں نئے گھر کے خواب تھے، تبھی ایک حواس باختہ شخص موت کے ایک سائے کی طرح پارلر کے اندر داخل ہوا۔ جو اسکا اپنا پھوپھی زاد عاشق رہ چکا تھا، مگر رشتہ نہ ملنے کی آگ میں اس قدر اندھا ہو چکا تھا کہ اسے اپنی ہی کزن کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے۔
ملزم نے پہلے اسے یرغمال بنا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر سفاکی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے چھر-ی-و-ں کے پے در پے وار کر کے اس کا خوبصورت چہرہ تک بگاڑ دیا۔ پارلر کی وہ دیواریں جہاں سے ہنسی مذاق کی آوازیں آنی تھیں، وہاں اس معصوم کی آخری چیخیں گونجتی رہیں، لیکن جب تک مدد پہنچتی، وہ سرخ جوڑا خون سے مزید سرخ ہو چکا تھا اور دلہن ابدی نیند سو چکی تھی۔ درندہ صفت کزن نے اسے ختم کرنے کے بعد اسی خ-نجر سے اپنی گر-د-ن بھی ک-ا-ٹ لی تاکہ قانون کے شکنجے سے بچ سکے، مگر وہ اب ہسپتال میں زندگی اور م-و-ت کی کشمکش میں ہے۔ جس گھر سے آج ڈولی اٹھنی تھی وہاں اب کہرام مچا ہے، اور وہ بارات جو شہنائیوں کے ساتھ آ رہی تھی، اب اس کا استقبال جنازے کے بین کریں گے۔

Comments
Post a Comment