آخر ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے

آخر ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے اس مسکراتے بچے کو امانتاً دفن کردیا گیا کیونکہ اس کے

کوئی آگے پیچھے نہ تھا بس اتنا پتا چلا کہ اس کو ایک بااثر مراد نامی شخص نے استعمال کرکے کچھ عرصہ بعد ختم کردیا۔

سوشل میڈیا پہ کئی پلیٹ فارمز پہ آواز اٹھائی گئی لیکن ملزم بہت بااثر تھا وقت گزارا ڈی پی او وقار عظیم میانوالی تعینات ہوگئے ۔
یہاں پہ لاوارث بچے کے والدین کو ایس ایچ او مقبول خان نے ڈھونڈ نکالا بچے کی ماں رونے لگ گئی ایس ایچ او کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگ گئی کہ میرے بیٹے کے ساتھ جو ہوا ہے اس کو معافی نہیں ملنی چاہیئے ۔

وہاں ملزم بااثر تھا لیکن مقبول خان نے ٹھان لی تھی کہ چاہے کچھ بھی ہو اس کو پکڑ کر ہی دم لے گا ۔

اس کے بعد مقبول خان نے یہ کیس ڈی ایس پی اور ڈی پی او وقار عظیم کو بتایا تو دونوں نے ایس ایچ او کو اجازت دے دی کہ

زندہ یا مردہ حالت میں گرفتار کیا جائے پچھلے دن مقبول خان کو لیڈ ملی کہ ملزم فلاں جگہ موجود ہے جب مقبول خان نے ریڈ کی تو فائرنگ کے تبادلہ میں مبینہ ملزم ہلاک ہوگیا ۔

مقبول خان وہی نڈر ایس ایچ او ہے جس نے یاد ہوگا عید کے روز ہلڑ بازی کرنے والے 30 سے زیادہ افراد کو گنجا کروایا تھا کہ میری ماں بہنوں کو تمہاری شکلیں دیکھ کر ڈر لگتا ہے ۔

کوئی ایک لفظ ان سب افسران کے لیئے ؟؟؟؟؟

Comments