ایک ہی جھٹکے میں پورا خاندان مٹی تلے پہنچ گیا افسوس اوچ شریف جاز فرنیچائز کے مالک راؤ انوار اپنے بچوں کے لیئے تربوز لے کر آئے ۔
تربوز کو کاٹا خود بھی کھایا اور معصوم ننھے پھولوں کو بھی کھلایا تھوڑی دیر کے بعد تینوں کی طبعیت خراب ہوگئی
جس کی وجہ سے اوچ شریف سے فوراً تینوں کو وکٹیوریہ اسپتال لے کر روانہ ہوئے
لیکن افسوس قسمت کی ستم ظریفی کے دونوں بچے راستے میں دم توڑ گئے تربوز زہریلا تھا فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے دونوں ننھے پھول اللہ کے پاس جاپہنچے
اس کے بعد جب وکٹوریہ اسپتال میں ان کے والد کو داخل گیا تو وہ بھی کچھ دیر کے بعد دم توڑ گئے ۔
ایک ہی لمحہ میں انوار اور اس کی فیملی اللہ کے پاس جاپہنچی
جب تربوز لیا جاتا ہے تو کوشش کریں کہ سایہ میں پڑے رہنا والا تربوز لیں پہلے سے کٹا ہوا یا گندی ٹاکی لگا ہوا تربوز نہ لیں
ورنہ بہانہ بن جاتا ہے ہم ان بچوں اور ان کے والد کی وفات پہ افسردہ ہیں
آپ بتائیں کہ فوڈ پوائزننگ کیوں ہوتی ہے ؟ کیا تربوز پہ دودھ پینے سے انسان مر سکتا ہے ؟

Comments
Post a Comment