یہ کہانی ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کی ہے، جو کسی زمانے میں لندن اور جرمنی سے ڈاکٹری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان لوٹی تھیں۔ وہ ایک پڑھے لکھے اور خوشحال گھرانے کی شہزادی تھیں، جن کی زندگی میں سب کچھ تھا، سوائے ایک سچی محبت کے۔ اسی تلاش میں انہوں نے ایک ڈاکٹر سے شادی کی، مگر یہی فیصلہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن گیا۔
ان کے شوہر نے نہ صرف بے وفائی کی، بلکہ دھوکے سے رفعت سلطانہ کی تمام جائیداد اپنے نام کروا کر انہیں گھر سے نکال دیا اور خود دوسری بیوی کے ساتھ یورپ منتقل ہو گیا۔ اس صدمے نے رفعت سلطانہ کے حساس دل کو توڑ کر رکھ دیا، لیکن رہی سہی کسر اس طلاق نامے نے پوری کر دی جس میں شوہر نے لکھا تھا: "میں تمہیں اتنا کنگال کر آیا ہوں کہ اب تم ایک روپے کو بھی ترسو گی"۔ یہ زہریلے الفاظ ان کے دماغ میں ایسے نقش ہوئے کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں اور واہ کینٹ کی گلیوں میں "ایک روپے والی مائی" کے نام سے پہچانی جانے لگیں۔
اگلے 20 سالوں تک وہ صرف ایک روپے کی صدا لگاتی رہیں۔ ان کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی ترس کھا کر انہیں زیادہ پیسے دیتا، تو وہ باقی رقم واپس کر دیتیں اور کہتیں "بس ایک روپیہ ہی چاہیے"۔ وہ ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ وہ اس ایک روپے کی محتاج نہیں، بلکہ وہی ایک روپیہ ان کا غرور بن چکا ہے۔ وقت گزرا اور 2016 میں جب اس "ایک روپے والی مائی" کا انتقال ہوا، تو پورا واہ کینٹ تھم گیا۔ اس دن اسکولوں میں چھٹی دے دی گئی، دکانیں بند ہو گئیں اور شہر بھر نے اس عورت کو وہ پروٹوکول دیا جو بڑے بڑے حکمرانوں کو نصیب نہیں ہوتا۔ جس نے اسے کنگال کہا تھا، وہ شاید دیکھ نہ سکا کہ رفعت سلطانہ مر کر بھی پورے شہر کی دعائیں جیت گئیں۔ سچ ہے، زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے!

Comments
Post a Comment