آج کل ڈالروں کے چکر میں باہر جانیوالوں کا یہ حال ہوتا ہے

آج کل ڈالروں کے چکر میں باہر جانیوالوں کا یہ حال ہوتا ہے

آج کل ڈالروں کے چکر میں باہر جانیوالوں کا یہ حال ہوتا ہے ۔ یہ ایک ہی نوجوان کی دو تصویریں ہیں ۔ ہنستی مسکراتی تصویر بیرون ملک روانگی سے پہلے ائیرپورٹ پر لی گئی جبکہ دوسری تصویر چند ماہ قبل گھر والوں نے آخری بار دیکھی ۔۔۔ اس نوجوان کا نام عبدالرووف ہاشمی ہے۔ تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے۔ ایک ایجنٹ نے انکو سبز باغ دکھاکر سال 2024 میں کمبوڈیا بھیجا تھا، وہاں ایئرپورٹ میں دوسرے ایجنٹ نے انہیں کام کے لئے

لیجانے کا کہہ کر کسی کمپنی کو فروخت کردیا۔ بھائی کے بقول مختلف کاموں نام پر ایجنٹ ہم سے تقریبا بیس لاکھ روپے تک بھی لے چکے تھے۔
عبدالروف نے تقریبا دس ماہ بعد یکم دسمبر 2025 کو کال کی اور گھر میں بتایا کہ میں ان کمپنی سے بھاگ کر ایک ہوٹل میں آیا ہوں ۔ مجھے واپس بلانے کے انتظامات کریں۔ 23 دسمبر کے بعد سے بھائی سے رابطہ منقطع ہوا اور آج تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔آخری رابطے تک عبدالروف کمبوڈیا کے دار الحکومت فیناپن شہر کے میاں جی نامی پاکستانی ریسٹورن میں موجود تھا۔کمبوڈیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی،سفارتخانہ پاکستان،دفتر خارجہ اور وزارت خارجہ سے اپیل ہے کہ عبدالروف کی تلاش کے لئے اقدامات کریں۔ ماں باپ اور بہن بھائیوں کو ڈالر نہیں اپنا بیٹا اور بھائی زندہ سلامت چاہیے

Comments