یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک ریاض سخت مالی مشکلات کا شکار تھے۔ ٹھیکے دار سے جھگڑا ہوا تو اس نے پیسے دیے بغیر کام سے نکال دیا، گھر میں فاقہ تھا اور والدہ شدید بیمار۔ حالات نے مجبور کیا تو دن کو اسکول میں چوکیداری اور شام کو مستریوں کے ساتھ مزدوری شروع کر دی۔
ایک شام مزدوری سے واپسی پر ان کی جیب میں صرف 5 روپے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ بیمار ماں کے لیے دہی اور کلچے لے جاؤں تاکہ وہ کچھ کھا کر دوا لے سکیں۔ ابھی کھانا خریدا ہی تھا کہ ایک بوڑھی عورت نے دامن تھام لیا: "بیٹا! میرے بچے دو دن سے بھوکے ہیں، اللہ کے نام پر کچھ دے دو۔"
ملک ریاض کے سامنے دو ہی راستے تھے: بیمار ماں یا وہ بلکتے ہوئے بچے۔ انہوں نے ہمت کی اور وہ کھانا اس عورت کو دے دیا۔ خالی ہاتھ گھر پہنچے تو آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں اللہ سے التجا کہ "یا اللہ! میں نے تیرے بندوں کا خیال رکھا، تو میری ماں کا رکھنا۔"
وہ ابھی گھر میں بیٹھے ہی تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر وہی ٹھیکے دار کھڑا تھا جس نے لڑائی کر کے انہیں نکالا تھا۔ وہ شرمندہ تھا، معافی مانگی اور نہ صرف پرانے بقایا جات ادا کیے بلکہ کچھ اضافی رقم بھی دے دی۔
ملک ریاض کہتے ہیں کہ وہ رقم ان 5 روپوں سے کئی گنا زیادہ تھی جو انہوں نے اللہ کی راہ میں دیے تھے۔ اسی ایک واقعے نے ان کا اللہ پر توکل پکا کر دیا اور وہیں سے ان کی کامیابی کا وہ سفر شروع ہوا جو آج سب کے سامنے ہے۔

Comments
Post a Comment