"آپ چوری جیسے جرم پر ہاتھ کا-ٹنے کی سخت سزا کیوں دیتے ہیں؟ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟" شاہ فیصل نے اس کا بحث سے جواب دینے کے بجائے ایک دلچسپ پیشکش کی اور کہا: "آپ کل اپنی بیگمات کے ساتھ یہاں کی کسی بھی گولڈ مارکیٹ چلے جائیں، جو دل کرے خریدیں، ادائیگی میں خود کروں گا۔ آپ کو آپ کا جواب وہیں مل جائے گا۔"
اگلے دن وہ صحافی جب اپنی بیگمات کے ساتھ بازار پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ دکانوں میں سونا عام چیزوں کی طرح کھلا پڑا تھا، لیکن سب سے زیادہ حیرت انہیں تب ہوئی جب اذان کی آواز گونجی۔ دکاندار دکانیں کھلی چھوڑ کر سکون سے مسجد کی طرف چل دیے، نہ وہاں کوئی تالا تھا اور نہ ہی کوئی سیکیورٹی گارڈ، مگر کسی کی ہمت نہ تھی کہ وہاں پڑے سونے کو ہاتھ بھی لگا سکے۔
واپسی پر شاہ فیصل نے ان سے پوچھا: "کیا آپ کو اپنے سوال کا جواب مل گیا؟"
صحافی لاجواب تھے، تو شاہ فیصل نے ایک تاریخی بات کہی:
"آپ جسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہتے ہیں، وہ دراصل ایک مجرم کا ہاتھ نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے سکون اور ان کے مال کی ضمانت ہے۔ ہم ایک ہاتھ اس لیے کا-ٹتے ہیں تاکہ لاکھوں ہاتھ دوسروں کے مال کی طرف بڑھنے سے رک جائیں۔ یہی اصل انسانی حقوق ہیں کہ ایک عورت سونے سے لدی ہوئی آدھی رات کو بھی نکلے تو اسے کسی کا خوف نہ ہو۔"

Comments
Post a Comment