جس نے پتھر دل انسانوں کو بھی رلا کر رکھ دیا ہے۔ قصہ اس وقت شروع ہوا جب کراچی میں مزدوری کرنے والا نوجوان جمشید خان جاں بحق ہوا، جس کی میت وصول کرنے اس کے تین سگے بھائی محمد سلیم، زاہد اور محمد شاہد گھر سے روانہ ہوئے۔
وہ ایک ایمبولینس میں اپنے بھائی کا جسدِ خاکی لے کر آبائی گاؤں واپس آ رہے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں بھائی کو آخری بار دیکھنے کی تڑپ۔ لیکن ظاہر پیر کے قریب موت نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور ایک ہولناک حادثے نے اس ایمبولینس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جہاں ایک بھائی کی میت پہلے سے موجود تھی، وہاں اسی لمحے باقی تین بھائی اور ڈرائیور بھی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جب وہ ایمبولینس شہر سلطان پہنچی تو وہاں کا منظر انسانی تصور سے باہر تھا؛ جس گھر سے ایک میت کا استقبال ہونا تھا، وہاں چار سگے بھائیوں کے جنازے ایک ساتھ دیکھ کر پورے شہر میں سکتہ طاری ہو گیا۔ سچ ہے، تقدیر جب گھیر کر لاتی ہے تو بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ اللہ اس اجڑے ہوئے خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments
Post a Comment