اس خواجہ سرا نے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا — اور پھر جو ہوا وہ سن کر پتھر دل بھی رو پڑے

اس خواجہ سرا نے پورے نظام کو بے نقاب  کر دیا — اور پھر جو ہوا وہ سن کر پتھر  دل بھی رو پڑے

شرم کرو ،ڈوب کے مرو! اس خواجہ سرا نے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا — اور پھر جو ہوا وہ سن کر پتھر دل بھی رو پڑے فنکشن سے واپسی پر گاڑی روکی گئی، اٹھایا گیا، گودام میں بند کیا گیا — نور حرا کی چیخیں سنی کسی نے؟
کراچی کی گلیوں میں رقص کر کے اپنا پیٹ پالنے والی خواجہ سرا نور حرا نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک عام سی شام ان کی پوری زندگی بدل کر رکھ دے گی۔ 13 اپریل کو اورنگی ٹاؤن میں ایک فیملی فنکشن میں شرکت کے بعد واپسی پر ان کی گاڑی زبردستی روکی گئی اور انہیں اغوا کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق تھانہ اقبال مارکیٹ کی حدود میں واقع فقیر کالونی کے ایک کپڑے کے گودام میں لے جا کر نہ صرف اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی بلکہ تشدد بھی کیا گیا، ویڈیوز بنائی گئیں اور سونے کی چین سمیت نقد رقم بھی چھین لی گئی۔ یہ کسی فلم کی کہانی نہیں، یہ پاکستان کے ایک بڑے شہر میں 2026 میں ہونے والا ایک سچا اور ہولناک جرم ہے۔
نور حرا کا بیان سنیں تو روح کانپ جاتی ہے۔ انہوں نے خود بتایا کہ 25 افراد نے انہیں اٹھایا، جن میں سے 7 نے باری باری زیادتی کی۔ تشدد اتنا شدید تھا کہ آنکھ اور جسم پر گہرے زخم آئے۔ اور جب مصیبت کی اس گھڑی میں انہوں نے اپنی ہی خواجہ سرا برادری کی طرف دیکھا تو وہاں سے بھی جواب یہ ملا کہ “ملزمان کا ساتھ دینا” زیادہ آسان ہے۔ یہ وہ اکیلاپن ہے جو کسی کو بھی توڑ دے — نہ گھر کا سہارا، نہ برادری کا، نہ معاشرے کا۔ ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی نے تصدیق کی کہ مقدمہ تھانہ اقبال مارکیٹ میں درج کرلیا گیا اور ایک ملزم کو گرفتار بھی کیا گیا — مگر سوال یہ ہے کہ باقی 24 کہاں ہیں؟
یہاں کچھ لوگ کہیں گے کہ “خواجہ سرا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے” — اور یہی وہ سوچ ہے جو اس ملک میں درندوں کو ہمت دیتی ہے۔ اسلام نے ہر انسان کو عزت و تحفظ کا حق دیا ہے، قانون نے ہر شہری کو برابر سمجھا ہے، اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ کمزور سے کمزور شخص کی حفاظت کرے۔ خواجہ سرا افراد کے ساتھ پاکستان میں جو ہوتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں — 2025 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مگر گرفتاریاں؟ سزائیں؟ وہ اعداد و شمار کہیں نظر نہیں آتے۔
اس کیس میں پولیس نے فوری مقدمہ درج کیا جو قابلِ تعریف ہے، مگر ابھی انصاف بہت دور ہے۔ 25 میں سے صرف ایک ملزم کی گرفتاری بتاتی ہے کہ باقی یا تو اثر و رسوخ رکھتے ہیں یا ریاستی مشینری ان تک پہنچنا ضروری نہیں سمجھتی۔ نور حرا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی — اور یہ وائرل ہونا ہی آج ان کی واحد امید ہے۔ جب تک عوامی دباؤ نہ ہو، جب تک آواز بلند نہ ہو، جب تک یہ کیس عوام کی نظروں میں زندہ رہے — انصاف کا امکان ہے۔ ورنہ یہ بھی ان ہزاروں فائلوں میں دفن ہوجائے گا جن پر “زیرِ تحقیقات” لکھا ہے اور تحقیقات کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔
یہ پاکستان ہے جو علامہ اقبال کا خواب تھا، جو قائدِ اعظم کا وعدہ تھا — ایک ایسی ریاست جہاں ہر شخص کو قانون کا تحفظ حاصل ہو۔ نور حرا نے کوئی جرم نہیں کیا — انہوں نے بس اپنی روزی کمائی۔ اور اس کی سزا انہیں گودام میں بند ہوکر ملی۔ جو ملک اپنے کمزور ترین شہریوں کو انصاف نہ دے سکے، وہ ملک کتنا مضبوط ہے؟ آج نور حرا کے لیے آواز اٹھائیں — اس لیے نہیں کہ وہ خواجہ سرا ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک انسان ہیں اور انسانیت کا یہ تقاضہ ہے۔ اگر آج ان کو انصاف نہ ملا تو کل یہ درندے مزید حوصلہ مند ہوں گے۔

Comments