ماں کے ہاتھوں ق-ت-ل ہونے والے بچوں کا ڈراپ سین

ماں کے ہاتھوں ق-ت-ل ہونے والے بچوں کا ڈراپ سین

جب صبح بھوک سے بلکتے بچوں کے فیڈر میں ماں نے دودھ کے بجائے صرف پانی بھر کر پلایا، تو اسی لمحے اچھرہ کی رہائشی ممتا نے دم توڑ دیا۔ ڈی ایس پی قمر عباس جب اس لرزہ خیز واقعے کے پیچھے چھپی حقیقت بتاتے ہیں، تو سننے والے کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ گھر میں دودھ کا ایک قطرہ نہ تھا، شوہر کی تنخواہ 30 ہزار تھی جبکہ گھر اور بچوں کا خرچہ کھینچ تان کر بھی 60 ہزار سے کم نہ بنتا تھا۔

غربت نے جب گھر میں ڈیرے ڈالے تو رشتوں کی دیواریں بھی گرنے لگیں۔ وہ شوہر جو محافظ ہوتا ہے، اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بیوی کو طعنے دینے لگا کہ "یہ بچے میرے نہیں ہیں"۔ تو بیوی رو رو کر کہتی کہ ڈی این اے کروالیتے ہیں، پھر شوہر بار بار بیوی سے مطالبہ کرتا تھا کہ "ہماری قسمت بدل جائے گی،فلاں پیر صاحب پرائز بانڈ کا نمبر دیں گے، بس تم ایک دو راتیں ان کے پاس گزار آؤ"۔ ایک عورت جو پہلے ہی بھوک سے ٹوٹ چکی تھی، اسے جب اپنے ہی مجازی خدا سے یہ لفظ سننے کو ملے تو اس کے اندر کا سب کچھ مر گیا۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ ساتھ والے کمرے میں سگا بھائی اور ماں رہتے تھے، مگر انہیں اپنے ہی خون کی بھوک اور اس گھر میں پلنے والی نفرت کا احساس تک نہ ہوا۔ خاتون سوشل میڈیا پر ضرور تھی، مگر وہ جسم فروش نہیں تھی، ورنہ شاید اپنے بچوں کا پیٹ پال لیتی۔ وہ تو بس شوہر کے طعنوں، غربت اور ایک بہتر زندگی کے جھوٹے لالچ میں دب کر وہ گناہ کر بیٹھی جس کی سزا ان تین معصوم پھولوں کو ملی۔

دعا ہے کہ رب کریم ہمارے حالات ایسے بنا دے کہ پھر کبھی کوئی ماں اتنی مجبور نہ ہو، کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے اور کوئی سفید پوش ضرورت کے لیے غلط راستے پر نہ چلے۔

Comments