آپ کے خیال میں عدالت کا فیصلہ درست ہے؟
نو سال کی عمر تو وہ ہوتی ہے جب بچہ اپنے عضو کا تصور محض پیشاب کرنے کی ایک نالی کی حدتک محدود رکھتا ہے، اس عضو کا غلط استعمال تو بہت دور کی بات ہے۔
نو سال کی عمر میں تو انسان کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی قمیص کے بٹن سیدھے لگے ہیں یا نہیں، چہ جائیکہ وہ زنا بالجبر جیسے سنگین فعل کی جسمانی سکت رکھتا ہو۔ پولیس اور عدالت کا یہ اصرار کہ یہ بچہ ایک مجرم ہے، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جائے کہ ایک کھلونا پستول سے ایٹمی دھماکہ ہو سکتا ہے.
طبی اور حیاتیاتی نقطہ نظر سے اس عمر کے بچے میں بلوغت کے وہ آثار پیدا ہی نہیں ہوتے جو کسی جنسی فعل کے لیے ضروری ہیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پولیس نے ایف آئی آر کاٹتے وقت اس معصوم کی جسامت اور عمر کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ کیا اس کا عضوِ تناسل اس قابل بھی ہے کہ وہ اس فعل کا مرتکب ہو سکے؟
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 82 واضح طور پر کہتی ہے کہ دس سال سے کم عمر بچے کا کوئی بھی فعل "جرم" کے زمرے میں نہیں آتا۔ پولیس نے اس واضح قانون کو نظر انداز کر کے نہ صرف اپنی نااہلی کا ثبوت دیا بلکہ جووینائل جسٹس سسٹم (Juvenile Justice System) کی بھی دھجیاں اڑا دیں۔
یہ واقعہ اس پولیس گردی کی بدترین مثال ہے جہاں تفتیش کا معیار عقل و شعور کے بجائے محض مدعی کی خوشنودی یا کاغذی خانہ پری تک محدود ہو چکا ہے۔ اگر ایسے کیسز میں ملوث تفتیشی افسران کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی، تو ہمارا نظامِ انصاف تماشہ بن کر رہ جائے گا۔ اس معصوم بچے کی ضمانت کا خارج ہونا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم نے شاید انصاف کی ترازو کو صرف طاقتور کے لیے وقف کر دیا ہے اور کمزور کا بچپن بھی اب قانون کی سنگدلی سے محفوظ نہیں۔

Comments
Post a Comment