ہوش میں آتے ہی قا.تل کے پہلے الفاظ: "سدرہ ٹھیک تو ہے ناں؟" لودھراں بیوٹی پارلر قت-ل کیس میں اب ایک ایسا موڑ آ گیا ہے جس نے ہر ایک کو دنگ کر دیا ہے۔
دو روز پہلے راجہ پور میں بارات کے انتظار میں کھڑی اپنی کزن سدرہ کا گلا ک-ا-ٹ کر بے دردی سے ق-ت-ل کرنے کے بعد، مدثر نے خود پر بھی چھ-ر-ی چلا کر اپنی زندگی ختم کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ جہاں دلہن موقع پر ہی دم توڑ گئی، ملزم تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ لیکن قدرت کا فیصلہ کچھ اور تھا؛ 36 گھنٹے تک موت کے منہ میں رہنے کے بعد، ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں اور جدید علاج نے اس کی جان بچا لی ہے۔
آج جیسے ہی مدثر کو ہوش آیا، اس کے چہرے پر وہ جنون نہیں بلکہ ایک گہری پشیمانی اور اضطراب نظر آیا۔ اس نے سب سے پہلا سوال یہی پوچھا، "سدرہ کیسی ہے؟ اسے کچھ ہوا تو نہیں؟" جیسے ہی اسے یہ خبر ملی کہ وہ جس سے "موت کے بندھن" کا وعدہ کر کے آیا تھا، وہ تو ہمیشہ کے لیے مٹی کے نیچے سو گئی ہے، ملزم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ آنسو معافی کے نہیں بلکہ اپنی "خودکشی کی ناکام کوشش" کے افسوس کے تھے، وہ خود کو مٹی کے نیچے سدرہ کے ساتھ نہ دیکھنے پر رو رہا تھا۔
اس المناک واقعے کے بعد اب قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ملزم مدثر اور اس کے تین دیگر نامزد گھر والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔ دلہن کی والدہ نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ ان کے بچوں کے قاتل کو فوری کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ تاہم، ابھی تک یہ کیس ایک عجیب الجھن کا شکار ہے۔ ملزم بدستور آئی سی ICU میں ہے اور ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی ٹی ڈی (CTD) ابھی تک اس کیس میں داخل نہیں ہوئی، وہ ملزم کے مکمل صحت یاب ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس المناک واقعے کا کیا "ڈراپ سین" ہوتا ہے: کیا ملزم کو صحت یاب ہونے پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا جاتا ہے یا اسے جیل بھیج کر قانونی چارہ جوئی مکمل کی جاتی ہے؟

Comments
Post a Comment