پاکستان میں ایرانی ریال خریدنے والوں کے لئے بڑی خبر

پاکستان میں ایرانی ریال خریدنے والوں کے لئے بڑی خبر

کراچی، کوئٹہ اور لاہور سمیت پاکستان کے بڑے شہروں کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال(Iranian Rial) کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث اس کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی سرگرمی برقرار ہے۔

25 اپریل 2026 کو ڈیلرز کے مطابق غیر رسمی نقد مارکیٹ میں ایرانی ریال مختلف ریٹس پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق 1 کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً 8 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے تک بتائی جا رہی ہے، جبکہ 1 ہزار پاکستانی روپے کے بدلے قریباً 10 لاکھ ایرانی ریال مل رہے ہیں۔ اسی طرح اوپن مارکیٹ میں شرح مبادلہ کے غیر سرکاری اندازوں کے مطابق 1 پاکستانی روپیہ تقریباً 1,000 ایرانی ریال کے برابر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ریٹس بین الاقوامی مالیاتی معیار کے مقابلے میں مختلف ہیں، جہاں Iranian Rial کی قدر نسبتاً کم اور غیر مستحکم تصور کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں طلب اور سپلائی کے دباؤ کی وجہ سے قیمتوں میں فرق سامنے آتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت مقامی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب بڑھنے کی دو بڑی وجوہات سامنے آ رہی ہیں۔ پہلی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے ممکنہ منافع کی توقع ہے، جن کا خیال ہے کہ مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی پیش رفت یا پابندیوں میں نرمی سے ریال کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری اہم وجہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت ہے، خاص طور پر بلوچستان کے راستے ایندھن، اشیائے خوردونوش اور دیگر سامان کی نقل و حرکت، جس میں نقد لین دین کے لیے ریال کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ مقامی سطح پر ریال کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن عالمی مالیاتی نظام میں یہ کرنسی اب بھی غیر مستحکم سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے اور سیاسی یا معاشی تبدیلیاں کسی بھی وقت اس کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

اسی لیے کرنسی ڈیلرز شہریوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ لین دین کے دوران احتیاط برتیں، جعلی نوٹوں سے بچیں اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے مارکیٹ کے رجحانات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

Comments