پرویز مشرف نے جب صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا تو ایک بار اسلام آباد میں خفیہ میٹنگ کے دوران انکے ساتھ معیشت اور عالمی دباؤ کے حوالے سے حساس معلومات شئیر کی گئیں
کچھ وزراء کا مشورہ تھا کہ امریکی دباؤ کم کرنے کے لیے قومی فیصلوں میں نرمی کرنا ہوگی، ورنہ امداد رک سکتی ہے۔
یہ سن کر مشرف نے سخت لہجے میں دوٹوک کہا:
“پاکستان امداد پر نہیں، اپنی غیرت پر چلتا ہے، اصول بیچ دیے تو پہچان بھی کھو دیں گے۔”
وہ پھر سے گرجدار آواز میں بولے :
“میں نے وردی پاکستان کی عزت کے لیے پہنی ہے، طاقت کے لیے نہیں، میرا مقصد مضبوط پاکستان ہے، جو کسی کے رحم و کرم پر نہ ہو۔”
اسی سوچ کے تحت انہوں نے معیشت، تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی،
ان کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا پھیلاؤ بڑھا، سرمایہ کاری آئی، اور نوجوانوں کو نئی سمت ملی۔
ایک تقریب میں جب پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ فکر کس چیز کی ہے؟
تو جواب تھا:
“مجھے عام آدمی کی فکر ہے، میں چاہتا ہوں ہر پاکستانی باعزت زندگی گزارے۔”

Comments
Post a Comment