میت کے گھر تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ بحث یہ نہیں کہ دعا ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ غریب کے گھر روح قبض ہونے سے لے کر قبر پر مٹی ڈالنے تک، صرف "کھانے پینے" کی مد میں ہی ہزاروں روپے کا بوجھ پڑ جاتا ہے۔ غم زدہ خاندان پر میت کے دکھ کے ساتھ ساتھ قرض کا بوجھ بھی سوار ہو جاتا ہے۔
پنجاب کے ایک گاؤں نے اس رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا:
"یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔"
جنازے کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔
تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔
ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ جنت کا آسان راستہ مخلوقِ خدا کی خدمت میں چھپا ہے۔
اگر ہم ناشتے کا ایک بسکٹ ہی چیونٹیوں کو ڈال دیں، تو ہزاروں کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ اگر کھانے کا ایک نوالہ پرندوں کے لیے رکھ دیں، تو کئی پرندوں کی دعا مل سکتی ہے۔
آئیں اس روایت کو ہر گاؤں اور شہر میں زندہ کریں۔ جب بھی کسی ایسے غریب کا جنازہ ہو جو گھر کا واحد کفیل تھا، تو وہاں کے علماءِ کرام پانچ منٹ اس کی زندگی پر بات کرنے کے بجائے یہ اعلان کریں کہ "مرحوم کے بچوں کے لیے اپنا حصہ ڈالیں"۔ تاکہ اس خاندان کو معاشی پریشانی سے بچایا جا سکے اور آپ کا یہ عمل آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔

Comments
Post a Comment