سرکاری ملازمین اور پنشنرز حضرات کے لئے بڑی خبر

سرکاری ملازمین اور پنشنرز حضرات کے لئے بڑی خبر

نئی دہلی میں لاکھوں ملازمین اور پنشنرز کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے، کیونکہ وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر مہنگائی الاؤنس (DA) اور مہنگائی ریلیف (DR) میں اضافے کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے ایک آفس میمورنڈم جاری کر دیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف ملازمین کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ گزشتہ چند مہینوں کے بقایاجات (arrears) بھی حاصل کر سکیں گے۔

وزارتِ خزانہ کے تحت محکمہ اخراجات کی جانب سے جاری کردہ حکم کے مطابق، مرکزی سرکاری ملازمین کے لیے مہنگائی الاؤنس میں دو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد DA کی شرح بنیادی تنخواہ کے 58 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ نئی شرحیں یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل تصور کی جائیں گی، جس کا مطلب ہے کہ ملازمین کو جنوری، فروری اور مارچ کے مہینوں کے بقایاجات بھی ملیں گے۔

اس فیصلے سے تقریباً 50 لاکھ مرکزی سرکاری ملازمین اور 68 لاکھ پنشنرز کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ جہاں مہنگائی الاؤنس (DA) سرکاری ملازمین کو دیا جاتا ہے، وہیں مہنگائی ریلیف (DR) پنشنرز کو فراہم کیا جاتا ہے۔

تنخواہ میں اضافے کا تعین ملازم کے "پے میٹرکس" لیول اور بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جن ملازمین کی بنیادی تنخواہ 18,000 روپے تھی، انہیں پہلے 10,440 روپے (58 فیصد) بطور DA مل رہے تھے۔ اب نئی شرح 60 فیصد ہونے کے بعد یہ رقم بڑھ کر 10,800 روپے ہو جائے گی، جو کہ ماہانہ 360 روپے کا براہِ راست اضافہ ہے۔ اسی طرح، لیول-10 کے افسران جن کی بنیادی تنخواہ 56,100 روپے ہے، ان کی ماہانہ آمدنی میں تقریباً 1,122 روپے کا اضافہ ہوگا۔ چونکہ یہ نظرثانی جنوری سے مؤثر ہوگی، اس لیے 18,000 روپے بنیادی تنخواہ والے ملازمین کو تقریباً 1,080 روپے کے بقایاجات (تین ماہ کے لیے) بھی ملیں گے۔

حکومتِ ہند مہنگائی الاؤنس (DA) کا جائزہ سال میں دو مرتبہ، جنوری اور جولائی میں، آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس برائے صنعتی کارکنان (AICPI-IW) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لیتی ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملازمین کی قوتِ خرید کو برقرار رکھنا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر یہ دو فیصد اضافہ ضروری سمجھا گیا۔

وزارتِ خزانہ کے اس فیصلے سے حکومتی خزانے پر سالانہ کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ملازمین کے ہاتھوں میں اضافی رقم آنے سے مارکیٹ میں طلب بڑھے گی، جس سے ملک کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ آنے والے تہواروں کے موسم اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیشِ نظر اس فیصلے کو ملازمین کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے اس باضابطہ حکم کے بعد مختلف سرکاری محکموں کے اکاؤنٹس سیکشنز نے نئی شرحوں کے مطابق تنخواہوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ توقع ہے کہ ملازمین کو اپریل یا مئی کی تنخواہوں میں نظرثانی شدہ تنخواہ اور بقایاجات ایک ساتھ موصول ہوں گے۔

Comments