جب محافظ ہی لالچ میں کسی کی زندگی اور عزت کو روندنے لگیں

پاکپتن کے علاقے عارف والا میں سرکاری اسکول کی ٹیچر ریحانہ اختر کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر  

قت۔ل کر دیا گیا۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس ہولناک جرم میں ایک پولیس افسر مرکزی ملزم کے طور پر سامنے آیا ہے۔

جب ریحانہ بی بی نے اپنا گھر اس شخص کو کرائے پر دیا ہوگا تو یقیناً انہوں نے یہ سوچا ہوگا کہ وہ ایک پولیس والا ہے، قانون کا محافظ ہے، اس لیے قابلِ بھروسہ ہوگا۔
مگر وہ کیسے جانتیں کہ وہ ایک د۔رندے کو پناہ دے رہی ہیں اور اپنی گود میں سانپ پال رہی ہیں؟

پولیس کی ابتدائی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق محلہ حسن پورہ کی رہائشی ریحانہ اختر کو ان کے کرایہ دار کانسٹیبل زاہد سکھیرا نے دو ساتھیوں کی مدد سے اغوا کرکے قتل کر دیا۔
ملزمان نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاش کو گھر سے دور پھینک دیا اور اسے جلانے اور ناقابلِ شناخت بنانے کی کوشش کی۔ تاہم مقتولہ کی بیٹی نے جوتوں کی مدد سے اپنی ماں کو پہچان لیا۔
اس واقعے کا گھٹیا مقصد زمین پر قبضہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی عمر دراز خان کی نگرانی میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اہم ملزم کانسٹیبل زاہد تاحال فرار ہے جبکہ پولیس نے مقتولہ کی بہو اور اس کے بھائی کو حراست میں لے لیا ہے، جنہیں اس جرم میں شریک بتایا جا رہا ہے۔

جب محافظ ہی زمین کے لالچ میں کسی کی زندگی اور عزت کو روندنے لگیں تو شہری خود کو کہاں محفوظ سمجھیں؟

Comments