سہاگ رات کو دولہے نے پاس جانے سے پہلے جیسے ہی ایک چمچ مردانہ طاقت کا کشتہ لیا

سہاگ رات کو دولہے نے پاس جانے سے پہلے جیسے ہی ایک چمچ مردانہ طاقت کا کشتہ لیا

سہرے سے کفن تک ، ایک ادھورا ولیمہ
جس گھر کی دہلیز پر کل خوشیوں نے دستک دی تھی، جہاں ڈھولک کی تھاپ پر سہانے خواب بنے جا رہے تھے، آج وہاں موت کا سناٹا ہے۔ چوک اعظم کا وہ نوجوان، جس کے ہاتھوں کی مہندی ابھی سوکھی نہ تھی اور جس کی آنکھوں میں نئی زندگی کے روشن چراغ جل رہے تھے، آج منوں مٹی تلے جا سویا ہے۔
یہ صرف ایک موت نہیں، ایک جیتے جاگتے خواب کا قتل ہے، جو چند لمحوں کی مصنوعی "طاقت" اور غیر مستند "کشطوں" کی بھینٹ چڑھ گیا۔
سہاگ رات کو نئی زندگی کی شروعات سمجھا جاتا ہے۔ عمران کے لیے وہ زندگی کی آخری رات بن گئی۔ مقامی پنسار سٹور سے لیا گیا کشتہ پیٹ میں جاتے ہی زہر بن گیا۔ گردے بند، جسم نیلا، ہسپتال کے ڈاکٹر سر پکڑ کر رہ گئے۔ بھرپور کوشش کے باوجود 24 گھنٹے میں سانس کی ڈور ٹوٹ گئی۔
قاتل کون صرف نیم حکیم نہیں بلکہ
وہ دوست جس نے شادی سے پہلے ہنستے ہوئے کہا: "کچھ لے لینا یار، پہلی رات ہے"۔
وہ پنسار جس نے 200 روپے کے لیے زہر کا کیپسول بیچ دیا اور پوچھا تک نہیں کہ کس مرض کے لیے ہے۔
وہ معاشرہ جس نے مرد کو سکھایا کہ بستر مردانگی کا میدانِ جنگ ہے، اور کمزوری موت سے بدتر ہے۔
خدارا! اپنی جان کو کھلونا نہ بنائیں۔ یہ نام نہاد حکیم اور ان کی چمکیلی شیشیاں زندگی نہیں، موت بانٹ رہی ہیں۔ آپ کی زندگی آپ کی شریکِ حیات اور آپ کے والدین کی کل کائنات ہے۔
اللہ تعالیٰ عمران کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

Comments