1 لاکھ روپے کا بندوبست کرو تاکہ ہمارے حصے میں 20، 20 ہزار تو آئیں

1 لاکھ روپے کا بندوبست کرو تاکہ ہمارے حصے میں 20، 20 ہزار تو آئیں

مریم نواز کی ریڈ لائن پھر عبور ۔۔۔ راولپنڈی کے علاقہ چکلالہ میں سکول پرنسپل خاتون بشریٰ عرفان پر جعلی ایجنسی والوں کا دھاوا ۔۔یہ واقعہ 28 اپریل کو پیش آیا جب صبح 9 بجے وہ اپنے پرائیویٹ سکول کے آفس میں موجود تھیں ۔ گیٹ پر کچھ لوگوں کی سکول کوارڈینیٹر کے ساتھ بحث تکرار کا معلوم ہونے پر یہ گیٹ پر گئیں تو پتہ چلا یہ لوگ ایم آئی کے بندے ہیں اور انہیں یعنی بشریٰ عرفان کو لینے آئے ہیں ۔۔۔ جب بشریٰ عرفان نے انہیں بتایا کہ میں نہ تو کوئی ملزمہ اور مجرمہ ہوں اور نہ کسی منفی سرگرمی میں ملوث ہوں آپ کس چکر میں مجھے لینے یا گرفتار کرنے آئے ہیں ، تو جواب میں بشریٰ عرفان سے موبائل چھین لیا گیا انہیں گھسیٹ کر آلٹو گاڑی میں دو مردوں نے درمیان میں بٹھا لیا ، یہ واسطے دیتی رہیں کہ آپ کی مائیں بہنیں ہونگی میری اسطرح تذلیل نہ کریں لیکن یہ لوگ انہیں چکلالہ چوکی لے گئے جہاں ایک اہلکار جو خود کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کا اہلکار بتا رہا تھا اور ایک اہلکار راولپنڈی پولیس کا ظاہر کررہا تھا ۔ ان دونوں نے خاتون کے منہ سے نقاب نوچ کر اتارا اور انکی ویڈیو اور تصویریں بناتے رہے شکر ہے اس چوکی میں مشرف احمد نامی ایک تھانیدار موجود تھا جس نے ان لوگوں کو حد کے اندر رکھا ورنہ شاید وہ انکی عزت کو ہاتھ ڈالتے ۔یہ لوگ بشریٰ عرفان کو ساتھ لے جانا چاہتے تھے اور مشرف احمد سے لکھ کر دینے کو کہتے رہے مگر اس نے انکار کردیا کہ خاتون کو ایسے میں آپ کے حوالے نہیں کر سکتا جب تک معاملہ واضح نہ ہو ۔۔ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک خاتون کو چوکی میں بٹھائے رکھا گیا ۔ بشریٰ عرفان کے شوہر کراچی میں تھے انہیں فون کرکے ایک لاکھ کا مطالبہ کرکے 50 ہزار روپے منگوائے گئے جبکہ ان جعلی یااصلی پولیس والوں کا کہنا تھا کہ ہم پانچ لوگ ہیں 1 لاکھ بھیجو تاکہ ہمارے حصے میں 20 ،20 ہزار تو آئیں ۔۔۔ یوں صبح سے شام تک بشریٰ عرفان کی جان سولی پر لٹکانے والے یہ لوگ جان چھوڑ گئے ۔ اس واقعہ کے بعد اب تک بشریٰ عرفان اپنے شوہر اور سکول کوارڈینیٹر کے ہمراہ تھانے کچہری عدالتوں اور پریس کلبز کے چکر کاٹ رہی ہیں کہ شاید انہیں انکا قصور معلوم ہو جائے شاید انہیں پتہ چل جائے کہ ان پر مصیبت بن کر نازل ہونے والے کون تھے۔ اور شاید انہیں کوئی سزا مل سکے ۔۔۔ بشریٰ عرفان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ انکے ساتھ پیش آئے واقعہ پر کارروائی کی جائے اور ملزمان کا سراغ لگایا جائے کیونکہ اس واقعہ کے بعد ڈر اور خوف کی وجہ سے انکی نیند اڑ چکی ہے اور انہیں خواب میں بھی لگتا ہے کوئی انہیں گھسیٹ رہا ہے اور انکا نقاب اور دوپٹہ نوچ رہا ہے

Comments