میں 15 سال کی تھی جب ماموں مجھے اپنے ساتھ دوبئی لے گئے

میں 15 سال کی تھی جب ماموں مجھے اپنے ساتھ دوبئی لے گئے


میں صرف 15 سال کی تھی جب میرے ماموں مجھے اپنے ساتھ دبئی لے گئے، کیونکہ میں یتیم تھی۔ میرے ماموں نے مجھے ایک حبشی شخص کو بیچ دیا۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ وہ شخص میرے ساتھ کوئی غلط حرکت کرتا تھا اور نہ ہی مجھ سے کوئی کام کرواتا تھا۔ میں بہت حیران تھی۔

اس حبشی کے گھر میں ایک بوڑھی ملازمہ تھی جو روز مجھے اشاروں سے کہتی تھی کہ یہاں سے بھاگ جاؤ، ورنہ تمہارا انجام بہت برا ہوگا۔ لیکن میں ایک انجان ملک میں بھاگ کر کہاں جاتی؟

جب میں نے اس کی بات پر توجہ نہ دی تو ایک دن وہ مجھے ایک تہہ خانے میں لے گئی۔ تہہ خانہ دیکھ کر میرا پورا جسم کانپ اٹھا۔

میں پہلے اپنے ماموں کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ میرے والد نے میری والدہ کو بہت پہلے طلاق دے دی تھی اور جب میں صرف پانچ سال کی تھی تو میری ماں کا انتقال ہوگیا تھا۔ مجھے اپنے باپ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، اس لیے میں ہمیشہ اپنے ماموں کے گھر رہی۔

ماموں کے اپنے بچے بھی تھے، مگر ممانی مجھ سے سخت نفرت کرتی تھی۔ وہ گھر کا سارا کام مجھ سے کرواتی۔ اگر ذرا سی غلطی ہوجاتی تو مجھے مارتی پیٹتی۔ ایک دن سالن جل گیا تو اس نے مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہوگئی۔

میں دن بھر کام کرتی اور روتی رہتی۔ میرے پاؤں تک توڑ دیے گئے تھے، مگر پھر بھی میں شکر کرتی تھی کہ کم از کم مجھے رہنے کی جگہ اور تین وقت کا کھانا تو مل جاتا ہے۔

میں بڑی ہو رہی تھی اور لوگ کہتے تھے کہ میں اپنی ماں کی طرح بہت خوبصورت ہوں۔ یہی بات میری ممانی اور اس کی بیٹی کو مجھ سے مزید جلانے لگی۔

ایک دن ماموں نے کہا کہ وہ میری شادی کروانے والے ہیں اور اس کے بعد مجھے اس گھر کے ظلموں سے نجات مل جائے گی۔ میں خوش ہوگئی۔ میں نے پہلی بار اپنی زندگی کے بارے میں خواب دیکھنے شروع کیے۔

کچھ دن بعد ماموں مجھے لے کر دبئی آگئے۔ دبئی کی خوبصورتی دیکھ کر تو میں حیران رہ گئی۔ پہلے ہم ایک ہوٹل میں رہے، پھر ایک بہت بڑے گھر میں منتقل ہوگئے۔ ماموں روز مجھے گھمانے لے جاتے، نئے کپڑے دلواتے، اچھے ہوٹلوں میں کھانا کھلاتے۔ میں سوچتی تھی کہ شاید اب واقعی میری قسمت بدل گئی ہے۔

تقریباً تین ہفتے بعد ماموں نے کہا کہ آج تمہارا ہونے والا شوہر آئے گا۔ میں نے نیا سوٹ پہنا اور تیار ہوگئی۔

کچھ دیر بعد ایک سیاہ فام آدمی آیا۔ میں نے سوچا شاید یہ کسی امیر شخص کا ملازم ہوگا، مگر ماموں نے کہا:

"یہی تمہارا شوہر ہے۔"

میں حیران رہ گئی۔ نہ نکاح ہوا، نہ کوئی رسم۔ ماموں نے مجھے زبردستی اس شخص کی گاڑی میں بٹھا دیا اور کہا:

"آج سے یہی تمہارا شوہر ہے۔"

تب مجھے احساس ہوا کہ ماموں نے مجھے بیچ دیا ہے۔

وہ شخص مجھے ایک بہت بڑے محل نما گھر میں لے گیا۔ وہاں بے شمار ملازم تھے۔ ایک گونگی بوڑھی عورت مجھے ایک خوبصورت کمرے میں لے گئی جو کسی شہزادی کے کمرے جیسا تھا۔

مجھے وہاں ہر آسائش ملی۔ قیمتی کپڑے، میک اپ، جوتے، سب کچھ۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شخص نہ مجھ سے کوئی غلط بات کرتا تھا اور نہ ہی مجھے اپنی بیوی سمجھتا تھا۔

مہینے گزر گئے۔ وہ صرف کبھی کبھار مجھ سے بات کرتا، حال پوچھتا، اور چلا جاتا۔

لیکن وہ بوڑھی ملازمہ بار بار مجھے اشاروں سے کہتی:

"یہاں سے بھاگ جاؤ۔"

ایک دن اس نے مجھے زبردستی ایک خفیہ تہہ خانے میں لے جا کر خوفناک ہڈیاں دکھائیں۔ میں خوف سے کانپ گئی۔

میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب یہاں سے بھاگنا ہوگا۔

میں کچھ پیسے لے کر رات کے وقت محل سے نکل آئی۔ مگر میں اس انجان ملک میں اکیلی تھی۔ اچانک دو لڑکے مجھے تنگ کرنے لگے۔ میں چیخنے لگی۔

اتنے میں ایک گاڑی آکر رکی۔ وہی حبشی شخص گاڑی سے نکلا۔ اس نے ان لڑکوں کو بھگا دیا اور مجھے واپس محل لے آیا۔

میں روتے ہوئے بولی:

"میں مرنا نہیں چاہتی! میں نے تہہ خانے میں ہڈیاں دیکھی ہیں!"

تب اس نے پہلی بار حقیقت بتائی۔

اس نے کہا:

"وہ ہڈیاں ان لوگوں کی ہیں جو میرے گینگ کے دشمن تھے۔ میں ایک وزیر ہوں۔ میں نے تمہیں اس لیے خریدا کیونکہ مجھے ایک خوبصورت ایشیائی لڑکی کی ضرورت تھی جسے میں اپنی بیٹی ظاہر کرسکوں۔"

اس نے بتایا کہ اس نے گینگ والوں سے جھوٹ بولا تھا کہ اس کی ایک پاکستانی بیوی اور ایک بیٹی ہے، تاکہ وہ کچھ معصوم لڑکیوں کو بچا سکے۔

اس نے کہا:

"میں نے تم سے نکاح اس لیے نہیں کیا کیونکہ میں تمہیں بیٹی بنانا چاہتا تھا، بیوی نہیں۔"

یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں جس شخص کو غلط سمجھ رہی تھی، وہ تو مجھے تحفظ دے رہا تھا۔

اگلے ہی دن وہ قانونی کاغذات لے آیا، جن میں مجھے اپنی بیٹی ظاہر کیا گیا تھا۔

اور یوں جس محل پر میں کبھی راج کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی، وہ حقیقت میں میرا گھر بن گیا۔

سچ کہا جاتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔

Comments