یہ 1991 کی بات ہے جب کمشنر ملتان کھانے کی میز پر تھا اور ملازمہ سے غلطی سے چائے کا کپ گر گیا

یہ 1991 کی بات ہے جب کمشنر ملتان کھانے کی میز پر تھا اور ملازمہ سے غلطی سے چائے کا کپ گر گیا

۔1990 کی اس منحوس صبح ملتان کے عالی شان بنگلے میں گرنے والی چائے کی ایک پیالی نے ایک ایسا طوفان کھڑا کرنا تھا جس کا اندازہ اس وقت کے طاقتور کمشنر کو بھی نہ تھا۔ ناشتے کی میز پر ایک معمولی لغزش ہوئی، ملازمہ کے کانپتے ہاتھوں سے چائے گری اور کمشنر کی انا چوٹ کھا گئی۔ اس نے غصے میں اندھے ہو کر اس 50 سالہ بیوہ کے سر کے بال سرِ عام کاٹ ڈالے اور اسے ذلیل کر کے نکال دیا۔

ملازمہ جب اس حال میں گھر پہنچی تو 15 سالہ امجد اپنی ماں کی ممتا کو اس بے بسی میں دیکھ کر اندر سے لرز گیا۔ اس نے چیخ و پکار نہیں کی، بلکہ خاموشی سے کمشنر کے بنگلے گیا، فرش سے ماں کے کٹے ہوئے ایک ایک بال چنے اور انہیں ایک پرانے صندوق میں بند کر دیا۔ وہ صندوق صرف لکڑی کا ایک بکس نہیں تھا، بلکہ اس میں امجد نے اپنے آنسو، اپنی ماں کی تذلیل اور حاکمِ وقت کو اس کی اوقات یاد دلانے کا عزم دفن کر دیا تھا۔

وقت کا پہیہ گھوما اور ٹھیک 10 سال بعد، وہی امجد جب ملتان کا طاقتور ڈی ایس پی بن کر اپنے دفتر پہنچا، تو اس کی پہلی نظر اسی پرانے صندوق پر پڑی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے صندوق کھولا، ماں کے وہ کٹے ہوئے بال نکالے اور سیدھا اس مقام پر پہنچا جہاں وہی سابق کمشنر اب ایک عام شہری کی صورت اپنے کسی جائز کام کے لیے دربدر ہو رہا تھا۔

امجد نے اسے اپنے سامنے بٹھایا، وردی کی جیب سے وہ پرانے بال نکال کر میز پر رکھے اور سکون سے بولا: “صاحب! یہ بال پہچانتے ہیں؟ یہ اس ماں کے ہیں جس کی چادر آپ نے 10 سال پہلے ایک پیالی چائے کے بدلے تار تار کی تھی۔ آج میں آپ کے بال نہیں کاٹوں گا، کیونکہ میری ماں نے مجھے بدلہ لینا نہیں، انصاف کرنا سکھایا ہے۔”

Comments