بہاولنگر سے 3 بھائی اپنی 80 سالہ ماں کی بیماری سے تنگ آ گئے

بہاولنگر سے 3 بھائی اپنی 80 سالہ ماں کی بیماری سے تنگ آ گئے

بہاولنگر کے تین سنگدل بھائیوں نے جب اپنی 80 سالہ بیمار ماں کو بوجھ سمجھا، تو اسے 200 کلومیٹر دور چولستان کے تپتے صحرا میں زندہ دفن کر آئے ،
اور صرف گردن ریت سے باہر چھوڑی تاکہ وہ تڑپ کر دم توڑ دے۔ قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، وہاں سے اونٹوں کا ایک قافلہ گزرا جس نے اس ممتا کو موت کے منہ سے نکالا۔ جب قافلے کے ایک غیرت مند نوجوان نے اس ماں کے آنسو دیکھے، تو اس نے ان درندوں کو سرِ عام ذلیل کرنے کی ٹھان لی۔ وہ شہر کے چوک پر آ کر مفت اونٹنی کا دودھ بانٹنے لگا۔

اس نوجوان نے ان بیٹوں کو ان کی اوقات دکھانے کے لیے ایک انوکھا جال بنا۔ وہ بہاولنگر کے چوک میں پہنچا اور اونٹنی کے دودھ کی سبیل لگا کر اعلان کیا: "یہ دودھ صرف ان کے لیے ہے جنہوں نے اپنی ماں کا حق ادا کیا ہو!" دو دن بعد، جب چھوٹا بیٹا مفت خوری کی عادت سے مجبور ہو کر وہاں پہنچا اور گلاس آگے کیا، تو نوجوان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مجمعے کے سامنے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ نوجوان گرج کر بولا:

"او بدبخت! جس ماں کے دودھ کا قرض تو چولستان کی ریت میں دفن کر آیا ہے، اس مفت کے دودھ پر اپنا منہ مارنے کس مٹھاس کی تلاش میں آیا ہے؟"

یہ سننا تھا کہ مجمعے میں سناٹا چھا گیا اور بیٹے کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ جس ماں کو وہ ویرانے میں مردہ چھوڑ آیا تھا، وہ اسے بھرے بازار میں ذلیل کرنے کے لیے زندہ ہو چکی ہے۔ پورا شہر ان تینوں بھائیوں پر تھوک رہا تھا اور وہ ندامت کی اس ریت میں خود ہی دفن ہو گئے جہاں انہوں نے اپنی ماں کو چھوڑا تھا۔ سچ ہے، ماں کو تو ریت چھپا سکتی ہے، مگر قدرت ان کے گناہوں کو کبھی نہیں چھپاتی۔

Comments