سیالکوٹ کے کسی دیہی علاقے میں 35 سالہ نوجوان کو اس کے گھر میں ق-ت-ل کر کے عضو بھی ک-ا-ٹ کر لے گئے

سیالکوٹ کے کسی دیہی علاقے میں 35 سالہ نوجوان کو اس کے گھر میں ق-ت-ل کر کے عضو بھی ک-ا-ٹ کر لے گئے

سیالکوٹ کے کسی دیہی گاؤں میں ہر کوئی حیران تھا کہ ایک ایسا شخص جو پانچ وقت کا نمازی اور تہجد گزار تھا، اسے اتنی بے دردی سے کیوں قتل کیا گیا؟
-
حویلی کے کمرے میں اس کی لاش پڑی تھی، قاتل اس کا عضو کاٹ کر ساتھ لے گیا تھا اور اس کے سینے پر ایک سرخ رومال رکھا ہوا تھا۔ لوگ اسے 'ولی اللہ' سمجھتے تھے، مگر اس سرخ رومال کے پیچھے ایک کالی حقیقت چھپی تھی۔
تفتیش میں پتہ چلا کہ یہ شخص دن کے وقت تو مسجد میں بیٹھ کر تسبیح پڑھتا اور لوگوں کی مدد کرتا تھا، لیکن رات ہوتے ہی اس کا اصلی چہرہ سامنے آتا۔ گاؤں کی ایک غریب بیوہ عورت تھی جس کے گھر کا راشن یہ 'نیک' آدمی ڈالتا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ بڑا سخی ہے، لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اس راشن کی قیمت وہ اس بیوہ کی جوان بیٹی سے وصول کرتا تھا۔ وہ اس معصوم لڑکی کو ڈراتا تھا کہ اگر اس نے کسی کو بتایا یا اس کی بات نہ مانی، تو وہ ان کا راشن بند کر دے گا اور وہ بھوک سے مر جائیں گے۔
قتل والی رات سے پہلے امام مسجد نے اسے دیکھا تو وہ بہت پریشان تھا۔ اس نے امام صاحب سے کہا، "مولوی صاحب، اگر کوئی شخص دنیا کی نظر میں بہت نیک ہو لیکن اس کے گناہ اسے اندر سے کھا رہے ہوں، تو کیا اللہ اسے معاف کر دے گا؟" اسے شاید اپنی موت کا اندازہ ہو گیا تھا۔
اسی رات جب وہ حسبِ معمول اس غریب گھر پہنچا اور اپنی طاقت کا رعب جما کر اس بچی کو ہراساں کرنے لگا، تو اس کی ماں کا صبر جواب دے گیا۔ انہوں نے اسے وہیں ٹھکانے لگایا اور وہ سرخ رومال، جو اس کی بیٹی کے سر سے چھینا گیا تھا، اس کے سینے پر رکھ دیا تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ یہ کسی 'ولی' کا نہیں بلکہ ایک 'درندے' کا انجام ہے۔
سبق یہی ہے کہ ماتھے پر سجدوں کا نشان ہونا کافی نہیں ہوتا، انسان کا کردار اس کی تنہائی میں پتہ چلتا ہے۔ اللہ عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے، لیکن جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو وہ رسوا بھی کر دیتا ہے۔

Comments