شادی کے صرف 45 دن بعد جو دولہا نئی نویلی دلہن کو الوداع کہہ کر نکلا

شادی کے صرف 45 دن بعد جو دولہا نئی نویلی دلہن کو الوداع کہہ کر نکلا

وہ پورے 50 سال بعد ایک بوڑھا بن کر واپس لوٹا!
یہ کہانی ہے 'امیر' نامی ایک ایسے نوجوان کی، جس کی آنکھوں میں ابھی شادی کے سہانے خواب سج ہی رہے تھے کہ سر پر موجود قرض کے بھاری بوجھ نے اسے جھنجھوڑ دیا۔ اپنی محبت اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کی خاطر، وہ شادی کے محض ڈیڑھ ماہ بعد دل پر پتھر رکھ کر کراچی روانہ ہو گیا۔ اس نے سوچا تھا کہ کچھ مہینوں میں قرض اتار کر واپس آ جائے گا، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ الوداع آدھی صدی کا طویل انتظار بن جائے گا۔
وقت کا پہیہ گھوما اور دن ہفتوں میں، اور ہفتے سالوں میں بدلتے گئے۔ وہ کراچی کی بے رحم مصروفیت اور مزدوری کی چکی میں ایسا پسا کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا، جبکہ دوسری طرف اس کی دلہن ہر روز چوکھٹ پر بیٹھ کر اس کی راہ تکتی رہی۔ پورے 50 سال—یعنی نصف صدی—تک وہ شخص پردیس میں خون پسینہ بہاتا رہا۔ تصویر کا ایک رخ اس کا وہ جوانی کا چہرہ ہے اور دوسرا رخ چہرے کی جھریاں اور سفید داڑھی، جو اس کٹھن اور طویل جدوجہد کی گواہی دے رہی ہیں۔
جب امیر پچاس برس بعد اپنے اسی گھر واپس لوٹا، تو وہاں سب کچھ بدل چکا تھا، جوانی جا چکی تھی اور اب صرف یادیں باقی تھیں۔ یہ صرف ایک مرد کی واپسی نہیں، بلکہ اس لازوال وفاداری اور قربانی کی داستان ہے جو ایک مرد اپنے اپنوں کی خاطر دیتا ہے۔ وہ اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی پوری جوانی، اپنی خواہشات اور اپنی محبت پردیس کی نذر کر دیتا ہے اور بدلے میں اس کے حصے میں صرف تنہائی آتی ہے۔

Comments