تصور کریں ایک ایسی عورت کا، جس نے بھری محفل میں اعلان کیا کہ "اگلے 6 گھنٹوں کے لیے میرا جسم تمہاری ملکیت ہے، تم جو چاہو میرے ساتھ کرو، میں ذرا بھی مزاحمت نہیں کروں گی اور تمہیں کوئی سزا بھی نہیں ملے گی"۔
یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ 1974 میں ہونے والا ایک سچا اور ہولناک تجربہ تھا جسے "ریتم زیرو" کا نام دیا گیا۔ سربین آرٹسٹ مارینا ابرامووچ ایک گیلری میں خاموش کھڑی ہو گئی اور اپنے سامنے ایک میز پر 72 چیزیں رکھ دیں، جن میں پھول اور خوشبو سے لے کر قینچی، چاقو اور ایک بھری ہوئی بندوق بھی شامل تھی۔
شروع میں لوگ بہت مہذب بنے رہے۔ کسی نے اسے گلاب دیا، کسی نے پیار سے دیکھا اور کسی نے تصویر کھینچی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا اور لوگوں کو یقین ہو گیا کہ واقعی انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے، تو ان کے اندر چھپا ہوا وہ درندہ جاگ اٹھا جسے قانون اور معاشرے کی زنجیروں نے باندھ رکھا تھا۔ محض چند گھنٹوں میں ماحول بدل گیا؛ لوگوں نے اس کے کپڑے پھاڑ دیے، بلیڈ سے اس کے جسم پر کٹ لگائے، اس کا خون چاٹا اور حد تو یہ ہو گئی کہ ایک شخص نے بھری ہوئی بندوق اس کی کنپٹی پر تان دی۔ مارینا پتھر کا بت بنی سب سہتی رہی، یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے مداخلت کر کے اسے اس بھیڑ سے بچایا۔
یہ تجربہ چیخ چیخ کر ایک ہی حقیقت بیان کر رہا ہے: اگر انسان کے دل سے سزا کا خوف اور جوابدہی کا احساس نکل جائے، تو وہ سیکنڈوں میں اشرف المخلوقات سے گر کر بدترین حیوان بن جاتا ہے۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں اخلاقیات کے لیے کسی مذہب یا خدا کے خوف کی ضرورت نہیں، مارینا کے جسم پر لگے وہ زخم ان کے لیے ایک آئینہ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانیت صرف اس وقت تک محفوظ ہے جب تک انسان کے اندر یہ احساس زندہ ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے اور اسے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔ مذہب ہی وہ پہرہ دار ہے جو ہمیں اندھیروں میں بھی 'انسان' بنے رہنے پر مجبور کرتا ہے، ورنہ بغیر کسی الٰہی ہدایت کے یہ دنیا ایک ایسے جنگل میں بدل جائے گی جہاں صرف طاقتور کا قانون چلے گا۔

Comments
Post a Comment