ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ایک ماں نے سوشل میڈیا پر نہایت سادہ مگر ممتا سے بھری ایک پوسٹ لکھی

ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ایک ماں نے سوشل میڈیا پر نہایت سادہ مگر ممتا سے بھری ایک پوسٹ لکھی

"میرا بیٹا اپنی سالگرہ پر صرف ایک بار کسی لگژری گاڑی میں بیٹھنا چاہتا ہے، کیا کسی کے پاس ایسی گاڑی ہے جو کل اسے تھوڑی دیر کے لیے دکھا سکے؟" اس ماں کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے ان چند لفظوں میں کتنی طاقت ہے۔

وہ پوسٹ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پھر سالگرہ والے دن جو ہوا، اس نے پوری دنیا کو دنگ کر دیا۔

صبح سویرے جب اس بچے کی آنکھ کھلی اور اس نے گھر سے باہر جھانکا، تو وہاں صرف ایک گاڑی نہیں بلکہ 100 سے زائد سپر کاروں کا طوفان امڈ آیا تھا۔ سڑک پر جہاں تک نظر جاتی تھی، کروڑوں روپے مالیت کی Lamborghini، Porsche اور Ferrari جیسی گاڑیاں قطار میں کھڑی تھیں۔ یہ صرف گاڑیوں کا شو نہیں تھا، بلکہ اجنبی لوگوں کا ایک ایسا گروہ تھا جو صرف ایک بچے کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے اپنا قیمتی وقت اور گاڑیاں لے کر وہاں پہنچ گیا تھا۔

پورا علاقہ ایک فلمی سین کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں انجنوں کا شور اور لوگوں کی تالیاں اس بچے کا استقبال کر رہی تھیں۔ وہ بچہ جس نے صرف ایک گاڑی میں بیٹھنے کی تمنا کی تھی، آج وہ ان سب گاڑیوں کا بادشاہ بنا ہوا تھا۔

یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ سوشل میڈیا صرف لڑائی جھگڑوں کے لیے نہیں، بلکہ بکھرے ہوئے لوگوں کو انسانیت کے ایک رشتے میں جوڑنے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس ماں کی ایک پکار نے ثابت کر دیا کہ اگر نیت سچی ہو، تو پوری کائنات آپ کی خوشی میں شامل ہونے کے لیے راستے بنا دیتی ہے۔

Comments