ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں پھراضافہ ہوگیا جبکہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 4 روپے 75 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ متوقع ہے بشرطیکہ حکومت اضافی پیٹرولیم لیوی عائد نہ کرے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئل انڈسٹری کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 270 روپے 3 پیسے سے بڑھ کر 274 روپے 77 پیسے فی لیٹر تک جاسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پریمیم اور دیگر اخراجات میں معمولی کمی کے باوجود مجموعی اضافے کو روکا نہ جاسکاجبکہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کی سابقہ ایڈجسٹمنٹ ختم ہونے سے بھی قیمت میں اضافہ ہوا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں صرف 20 پیسے فی لیٹر اضافے کی توقع ہے، ڈیزل کی عالمی قیمت میں نمایاں اضافے کے باوجود کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر اخراجات میں کمی کے باعث صارفین پر اضافی بوجھ محدود رہنے کا امکان ہے۔ صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین عالمی منڈی میں قیمتوں کے اثرات فوری محسوس کریں گے جبکہ ڈیزل کی قیمت کو حکومتی پالیسی اقدامات نے نسبتاً مستحکم رکھا ہے۔ حتمی قیمتوں کا اعلان حکومت کی جانب سے ٹیکس، لیوی اور شرح مبادلہ سے متعلق فیصلوں کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں جھڑپوں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے کے بعد 102.40 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والے خام تیل کی قیمت 2.1 فیصد بڑھ کر 96.80 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کو ناکام بنایا، اور جب اس کے بحری جہاز خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کے راستے نکل رہے تھے تو جوابی کارروائیاں بھی کیں۔
دوسری طرف ایران نے امریکہ پر پہلے حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔ کشیدگی میں اس اضافے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے، جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اپریل کو امن مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کرنے کی غرض سے غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی تھی۔

Comments
Post a Comment