سکھر صوبہ سندھ کے ضلع سکھر میں پولیس کے مطابق شوہر کے خوف سے عدالت پہنچنے والی بیوی والد کے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد واپس گھر جانے پر مبینہ طور پر شوہر کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔
ضلع سکھر کے تحصیل روہڑی کے نواحی گاؤں شاہ بخش میں دو بچوں کی ماں گلاں کو سیاہ کاری کے الزام میں قتل کر دیا گیا ہے۔ جس کا مقدمہ تھانہ جھانگڑو میں سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔سرکار کی جانب سے تھانہ جھانگڑو کے ایس ایچ او جاوید علی میمن گلاں قتل کیس کے مدعی ہیں۔ پولیس کے مطابق 18 اپریل کو گلاں نے تھانہ جھانگڑو میں پہنچ کر اپنی زندگی کے تحفظ کے لیے درخواست دی۔
ایس ایچ او جھانگڑو کے مطابق گلاں نے بتایا کہ ان کے شوہر سکیلدھو بھارو انہیں بدکاری کے الزام میں قتل کرنا چاہتے ہیں، انہیں تحفظ چاہیے جس کے بعد پولیس نے گلاں کو عدالت میں پیش کیا، جہاں انہوں نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا۔بیان کے مطابق وہ دو بچوں کی ماں ہیں اور ان پر شوہر نے بدکاری کا جھوٹا الزام عائد کیا ہے اور وہ انہیں اس الزام کے تحت قتل کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انہیں تحفظ چاہیے۔عدالت نے بیان کی روشنی میں پہلے گلاں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انہیں دارلامان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
پولیس کے مطابق وہ عدالت کے تحریری حکم نامے کا انتظار کر رہے تھے کہ اس دوران گلاں کے والد امداد علی بھارو اور ان کے ماموں محمد یونس بھارو بھی عدالت پہنچ گئے، جنہوں نے گلاں کی منت سماجت کی کہ وہ دارلامان نہ جائیں بلکہ واپس گھر چلیں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور وہ خود ان کا تحفظ کریں گے۔شاہدین کے مطابق نہ ماننے پر باپ نے اپنی پگڑی اتار کر بیٹی کے پاؤں پر رکھ دی اور گھر واپسی کا تقاضہ کیا۔ والد کا اصرار تھا کہ پورے خاندان کی بے عزتی ہو رہی ہے اسے اپنے خاندان کی عزت بچانی چاہیے۔
مقتولہ گلاں نے عدالت میں دوبارہ بیان ریکارڈ کرایا، جس میں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے والد کے ہمراہ گھر واپس جانا چاہتی ہیں کیونکہ والد نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کا تحفظ کریں گے۔عدالت نے مقتولہ گلاں کو ان کے والد اور ماموں سے تحریری طور پر ان کے تحفظ کی ضمانت دینے کا حکم دیا۔یوں گلاں اپنے والد کے ہمراہ ان کے گھر چلی گئیں، لیکن 13 روز بعد گلاں کو قتل کر دیا گیا۔ اس کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر سکیلدھو اور مامو مولا بخش کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ملزمان نے پولیس کے روبرو اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔

Comments
Post a Comment