اس نے مالک سے چھپ کر اسے کھانا کھلا دیا۔ مگر مالک نے یہ سب کیمرے میں دیکھ لیا اور غصے میں آکر ویٹر کی تنخواہ کاٹ لی۔
اگلے دن اچانک ریسٹورنٹ کے باہر پولیس کی گاڑیاں آکر رک گئیں۔ ایک انسپکٹر اندر آیا اور ویٹر کو سلام کرتے ہوئے بولا:
"کل جس بچے کو تم نے کھانا کھلایا تھا، وہ کوئی عام بچہ نہیں تھا بلکہ اس شہر کے ایک بڑے اور معزز ایم ایل اے کا گمشدہ بیٹا تھا۔"
میرا نام فہیم ہے اور میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ویٹر تھا۔ ہمارا مالک بہت ظالم انسان تھا۔ اگر ہم ایک دن بھی چھٹی کر لیتے تو وہ ہماری تنخواہ کاٹ لیتا۔ بیماری، مجبوری یا حادثہ اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔
میرے گھر کے حالات بہت خراب تھے۔ میری بوڑھی ماں بیمار رہتی تھی، رات بھر کھانستی رہتی تھی، اور میری بیوی بھی اکثر بخار اور درد میں مبتلا رہتی تھی۔ ہمارا گھر ایک گندی بستی میں تھا جہاں ہر طرف کچرا، بدبو اور بیماریاں تھیں۔ میری تھوڑی سی تنخواہ سے بمشکل راشن، دوائی اور کرایہ پورا ہوتا تھا۔
ایک دن میں نے مالک سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی تو وہ ہنسنے لگا۔ اس نے کہا:
"تم کون سا بڑا کام کرتے ہو جو میں تمہاری تنخواہ بڑھا دوں؟"
اس دن کے بعد میں خاموش ہوگیا۔
میرے ساتھ ایک اور ویٹر کام کرتا تھا، اس کا نام علی تھا۔ وہ ہمیشہ امید کی باتیں کرتا اور کہتا:
"اللہ سب دیکھ رہا ہے، ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
ایک دن ہمیں پتا چلا کہ ایک خطرناک اشتہاری مجرم ہمارے ہوٹل کے خفیہ وی آئی پی کمرے میں چھپا ہوا ہے اور اس کے سر پر پچاس لاکھ کا انعام تھا۔ ہم پولیس کے پاس گئے مگر وہاں بھی کرپشن دیکھی۔ پولیس والے نے صاف کہا:
"ہمیں تو اس مجرم کو چھپانے کے زیادہ پیسے ملتے ہیں۔"
یہ سن کر ہماری امید بھی ٹوٹ گئی۔
واپسی پر میں نے ایک بھوکے بچے کو پچاس روپے دے دیے۔ علی نے کہا:
"تمہارے دل میں بہت رحم ہے، مگر تمہاری جیب خالی ہے۔"
پھر ایک دن ہوٹل میں ایک بڑی پارٹی تھی۔ ہر طرف مہنگے کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ اسی دوران میری نظر ایک چھوٹے بچے پر پڑی جو کچن کے باہر بھوکا کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی۔ میرا دل پگھل گیا۔ میں اسے اندر لے گیا اور پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیا۔
اگلے دن مالک نے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھا کر مجھے سخت ذلیل کیا اور دو ماہ کی تنخواہ کاٹ لی۔ میں ٹوٹ گیا تھا۔
لیکن اگلے ہی دن اچانک پولیس کی کئی گاڑیاں ہوٹل کے باہر آگئیں۔ کمشنر نے مجھے بلایا اور بتایا:
"تم نے جس بچے کو کھانا کھلایا تھا، وہ ایک ایم ایل اے کا گمشدہ بیٹا ہے۔ وہ ذہنی طور پر کمزور ہے اور کل راستہ بھٹک گیا تھا۔ تمہاری وجہ سے ہمیں وہ بچہ واپس ملا۔"
یہ سن کر مالک کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
ایم ایل اے نے مجھے اپنے گھر بلایا، عزت دی، نئی نوکری دلوائی اور رہنے کے لیے گھر بھی دیا۔ میری ماں کا علاج شروع ہوا، بیوی کی صحت بہتر ہوگئی اور کچھ عرصے بعد اللہ نے ہمیں اولاد کی خوشخبری بھی دے دی۔
تب مجھے یقین ہوگیا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ اگر نیت صاف ہو تو اللہ ایک پلیٹ کھانے کا بدلہ بھی پوری زندگی بدل کر دیتا ہے۔
اللہ سب کچھ دیکھتا ہے۔ وہ کسی کا صبر، درد اور نیکی کبھی نہیں بھولتا۔
ناظرین! ہماری آج کی یہ کہانی آپ کو کیسی لگی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔
شکریہ۔ اللہ حافظ۔

Comments
Post a Comment