لاہور ہائی کورٹ میں جائیداد کے تنازع کا کیس تھا

لاہور ہائی کورٹ میں جائیداد کے تنازع کا کیس تھا

لاہور ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں اس دن جائیداد کی نہیں، بلکہ اخلاقیات کی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔
-
ایک طرف قیمتی سوٹ پہنے ایک مغرور نوجوان اپنے نامور وکیل کے ساتھ کھڑا تھا، جبکہ دوسری جانب ایک 70 سالہ کمزور بوڑھا، جس کی جھکتی کمر اور کپکپاتے ہاتھ اس کی بے بسی کا پتا دے رہے تھے۔ جج نے جب فائل سے نظریں ہٹا کر بوڑھے شخص کی طرف دیکھا، تو ایک عجیب سا سوال کیا: "بابا جی! آپ زندگی بھر کیا کرتے رہے ہیں؟"

بوڑھے نے اپنی دھندلی آنکھوں سے جج کی طرف دیکھا اور مدھم آواز میں جواب دیا، "صاحب! میں ایک ریٹائرڈ پرائمری استاد ہوں... اور یہ جو سامنے آپ کے سامنے کھڑا ہے، میرا وہ بیٹا ہے جسے میں نے اپنے خون پسینے سے پڑھایا، مگر آج یہ میرے ہی خلاف کورٹ میں کھڑا ہے۔"

یہ سننا تھا کہ کمرہ عدالت میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ جج صاحب کے چہرے کے تاثرات پل بھر میں بدل گئے، وہ اپنی کرسی سے اٹھے، نیچے آئے اور اس بوڑھے استاد کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنی 'منصف کی کرسی' پر بٹھا دیا اور خود احتراماً ان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ پورا مجمع یہ منظر دیکھ کر ششدر رہ گیا، کیونکہ ایک جج کا اپنی کرسی چھوڑنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔

اپنے باپ کو جج کی کرسی پر بیٹھے دیکھ کر بیٹے کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے گھبرا کر اپنے وکیل کے کان میں سرگوشی کی، "وکیل صاحب! کیس واپس لے لیں، جج بدل چکا ہے... اب ہمیں جائیداد نہیں بلکہ سزا ملے گی، کیونکہ آج میرا مقابلہ میرے باپ سے نہیں بلکہ ایک 'شاگرد' کا اپنے 'استاد' سے ہے۔"

اس دن عدالت نے جائیداد کا فیصلہ تو بعد میں کیا، مگر یہ ثابت کر دیا کہ عہدے چاہے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں، استاد کا مقام ہمیشہ سب سے بلند رہتا ہے۔ جو باپ اپنی اولاد کو جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے، وہ کبھی ہارا ہوا نہیں ہو سکتا۔

Comments