یار محمد کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی اور ایک ہفتے بعد اسے پھانسی دی جانی تھی۔ پھانسی سے چند لمحے پہلے یار محمد رو رہا تھا۔ جج نے اسے روتے دیکھا تو کہا:
“کیا تم موت کے خوف سے رو رہے ہو؟”
یار محمد نے جواب دیا:
“نہیں جج صاحب، مجھے موت کا ڈر نہیں۔ میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک بینک میں ڈاکا ڈالا تھا اور وہاں سے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے لوٹے تھے۔ وہ رقم میں نے گھر آ کر ایک پرانے ماڈل کے ٹی وی کے اندر چھپا دی تھی۔ یہ بات میں نے گھر کے کسی فرد کو نہیں بتائی، حتیٰ کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں۔ اب مجھے ڈر ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری بیوی وہ ٹی وی بیچ دے گی اور میرے سارے پیسے ضائع ہو جائیں گے۔”
یار محمد کو سولی پر لٹکا دیا گیا۔
اس کے بعد جج اس کے گھر گیا اور اس کی بیوی سے وہ پرانا ٹی وی لاکھوں روپے میں خرید لیا۔ گھر آ کر جج نے کمرہ بند کیا اور ٹی وی توڑ کر دیکھا، مگر حیران رہ گیا۔
ٹی وی کے اندر کوئی پیسے نہیں تھے۔
اصل میں یار محمد ایک تندور پر روٹیاں لگانے والا محنت کش آدمی تھا۔ صبح سویرے گھر سے نکلتا اور رات گئے تک تندور پر کام کرتا رہتا۔ اس کی بیوی اکثر اس سے ناراض رہتی کہ:
“تم مجھے اور بچوں کو وقت نہیں دیتے۔ صبح چلے جاتے ہو اور رات کو واپس آتے ہو۔ مجھے ڈر لگتا ہے، بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں۔”
یار محمد اسے سمجھاتا:
“میں تمہارے اور بچوں کے مستقبل کے لیے محنت کر رہا ہوں۔ ابھی جسم میں طاقت ہے تو مزدوری کر سکتا ہوں، لیکن جب بوڑھا ہو جاؤں گا تو اتنی محنت نہیں ہو سکے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے کچھ پیسے جمع ہو جائیں۔”
ایک رات تندور بند کرکے واپس آتے ہوئے یار محمد نے سڑک کنارے ایک آدمی کو زخمی حالت میں دیکھا۔ اس کے سینے میں خنجر گھونپا ہوا تھا اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔
یار محمد مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اس نے ہمت کرکے خنجر نکالا اور زخمی کو سہارا دینے لگا، اتنے میں پولیس وہاں پہنچ گئی۔ پولیس نے دیکھا کہ یار محمد کے ہاتھ میں خون آلود خنجر ہے اور آدمی اس کے سامنے پڑا ہے۔
بدقسمتی سے وہ شخص یار محمد کی گود میں ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے فوراً یار محمد کو گرفتار کر لیا۔ وہ چیختا رہا:
“میں قاتل نہیں ہوں، میں تو اس کی مدد کر رہا تھا!”
مگر کسی نے اس کی بات نہ سنی اور اسے قتل کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا۔
جب یہ خبر اس کی بیوی تک پہنچی تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ رونے لگی اور اپنے چھوٹے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ کر کانپنے لگی۔
وہ جیل میں شوہر سے ملنے گئی تو یار محمد نے روتے ہوئے کہا:
“تم جانتی ہو میں نے زندگی میں کبھی کسی سے جھگڑا تک نہیں کیا۔ میں تو صرف اس زخمی آدمی کی مدد کرنا چاہتا تھا، مگر مجھے ہی قاتل بنا دیا گیا۔”
بیوی نے تسلی دی:
“آپ فکر نہ کریں، میں ایک اچھے وکیل سے بات کرتی ہوں۔ وہ ضرور آپ کی مدد کریں گے۔”
چنانچہ وہ ایک وکیل کے پاس گئی۔ وکیل نے پوری کہانی سنی اور کہا:
“میں تمہارے شوہر کا کیس مفت لڑوں گا۔”
عدالت میں وکیل نے پوری کوشش کی کہ جج کو حقیقت سمجھا سکے، مگر تمام ثبوت یار محمد کے خلاف جا رہے تھے۔ آخرکار جج نے یار محمد کو سزائے موت سنا دی۔
پھانسی سے ایک رات پہلے یار محمد کی بیوی آدھی رات کو جج کے گھر پہنچی۔ سردی کی شدت تھی۔ چوکیدار نے بہت روکا مگر وہ نہ مانی۔
آخر جج باہر آیا اور پوچھا:
“کیا بات ہے؟”
عورت روتے ہوئے بولی:
“جج صاحب! میرا شوہر بے گناہ ہے۔ میرے بچے یتیم ہو جائیں گے۔”
اس نے سارا واقعہ دوبارہ سنایا۔
جج نے کہا:
“میں وعدہ تو نہیں کرتا، مگر پوری کوشش کروں گا۔”
اگلے دن جج نے یار محمد سے ملاقات کی اور پوچھا:
“سچ سچ بتاؤ، کیا زندگی میں کبھی کوئی غلطی کی تھی؟”
یار محمد نے روتے ہوئے کہا:
“میں نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی، مگر ایک بار مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی تھی۔”
پھر اس نے بتایا:
“میں تندور پر کام کر رہا تھا کہ ایک بلی آٹے میں گھس گئی۔ غصے میں آ کر میں نے اسے پکڑا اور تندور میں ڈال دیا۔ بلی کی چیخیں سن کر مجھے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ میں نے جلتے تندور میں ہاتھ ڈال کر اسے بچانے کی کوشش کی مگر بلی جل کر مر گئی۔”
اس نے اپنا جلا ہوا ہاتھ بھی دکھایا۔
یار محمد بولا:
“مجھے لگتا ہے شاید اسی گناہ کی سزا مجھے مل رہی ہے۔”
جج نے افسوس سے کہا:
“تم اس کیس میں بری طرح پھنس چکے ہو۔ بچنے کی امید بہت کم ہے۔”
پھانسی سے ایک دن پہلے یار محمد دوبارہ زور زور سے رونے لگا۔ جج نے پوچھا:
“اب کیوں رو رہے ہو؟”
یار محمد بولا:
“میں نے واقعی ایک بار بینک لوٹا تھا۔ 5 کروڑ 60 لاکھ روپے لا کر ایک پرانے ٹی وی میں چھپا دیے تھے۔ اب مجھے ڈر ہے کہ میری بیوی وہ ٹی وی بیچ دے گی اور اسے کبھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس میں دولت چھپی تھی۔”
جج نے کہا:
“فکر نہ کرو، میں خود تمہاری بیوی تک وہ راز پہنچا دوں گا۔”
فجر کے وقت یار محمد کو پھانسی دے دی گئی۔
اسی صبح جج نے اپنے ملازموں کو یار محمد کے گھر بھیجا۔ انہوں نے جا کر کہا:
“ہم اولڈ کلچرل ڈپارٹمنٹ سے آئے ہیں، آپ کے گھر کی پرانی چیزیں خریدنا چاہتے ہیں۔”
عورت نے کہا:
“ہمارے پاس ایک لالٹین، ایک پرانا ٹی وی اور ایک پیانو ہے، مگر میں انہیں بیچنا نہیں چاہتی۔”
ملازم بار بار قیمت بڑھاتے رہے۔ آخرکار عورت مان گئی۔
وہ لوگ لاکھوں روپے دے کر ٹی وی، پیانو اور لالٹین لے آئے۔
جج نے کمرہ بند کیا اور بے چینی سے ٹی وی توڑنا شروع کیا، مگر اندر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔
ٹی وی کے اندر صرف دو مرے ہوئے چوہے پڑے تھے۔
یہ دیکھ کر جج اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔

Comments
Post a Comment