کسی بچے کی پسند کو صرف ضد، انا یا خاندان کی عزت کا مسئلہ نہ بنائیں…
آج ایک اور نوجوان اپنی زندگی ہار گیا…
یہ صرف اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ شیروانی پہن کر اپنے والدین کے پاس گیا کہ میرے ساتھ چلیں…مگر اسے محبت نہیں، انکار ملا۔ اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا… 😢
سوچیں… آخر والدین کو اپنے بچوں کی خوشی سے بڑھ کر کیا چاہیے؟
زندگی تو بچے نے گزارنی ہوتی ہے، رشتہ بھی اسے نبھانا ہوتا ہے، پھر کیوں اس کی پسند کو اتنا غلط سمجھا جاتا ہے کہ بات زندگی اور موت تک پہنچ جائے؟
اگر ایک لڑکا یا لڑکی سمجھداری سے، اپنی رضامندی سے کسی کو پسند کرتے ہیں… تو خدارا ان کی بات سن لیا کریں۔
ہر پسند کی شادی ناکام نہیں ہوتی، اور ہر ماں باپ کی پسند کامیاب نہیں ہوتی۔
رشتے قسمت، محبت، عزت اور سمجھداری سے چلتے ہیں… صرف زبردستی سے نہیں۔
یہ خوف کہ “بچہ ہاتھ سے نکل جائے گا”
یقین مانیں، زبردستی کے فیصلے بچوں کو والدین سے زیادہ دور کر دیتے ہیں۔
نئی نسل کے والدین سے بس اتنی گزارش ہے…
اپنے بچوں کو اتنا مجبور نہ کریں کہ وہ زندگی سے ہی ہار جائیں۔
انہیں سمجھائیں، رہنمائی کریں، دعا دیں… مگر ان کی خوشیوں کو قید نہ کریں۔ 🙏
میں خود ایک ماں ہوں، اور ان شاء اللہ جب میرے بچے بڑے ہوں گے، تو میں ان کی پسند، ان کی رضا اور ان کے دل کی بات ضرور سنوں گی۔
کیونکہ محبت کے بغیر صرف نام کا رشتہ رہ جاتا ہے… اور ایسے رشتے انسان کو اندر سے مار دیتے ہیں۔
دل پہلے ہی بہت زیادہ اداس تھا اس جوان موت سے اور زیادہ اداس ہو گیا ہے اللہ پاک مغفرت فرمائے

Comments
Post a Comment