جب قانون خاموش رہا تو پڑھی لکھی لڑکی نے خود فیصلہ کر لیا۔ ہارون آباد کا وہ واقعہ جس نے پورے پاکستان کو سوچنے پر مجبور کر ریا

جب قانون خاموش رہا تو پڑھی لکھی لڑکی نے خود فیصلہ کر لیا۔ ہارون آباد کا وہ واقعہ جس نے پورے پاکستان کو سوچنے پر مجبور کر ریا

جب قانون خاموش رہا تو پڑھی لکھی لڑکی نے خود فیصلہ کر لیا۔ ہارون آباد کا وہ واقعہ جس نے پورے پاکستان کو سوچنے پر مجبور کر دیا
پاکستان کے شہر ہارون آباد سے ایک ایسی خبر آئی جس نے پورے ملک کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ایک پی ایچ ڈی طالبہ — جو علم کی روشنی میں اپنا مستقبل سنوار رہی تھی — نے ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ پہلی نظر میں یہ ایک سنگین جرم لگتا ہے، لیکن جب پرتیں اٹھائی گئیں تو ایک ایسی داستانِ ظلم سامنے آئی جو ہر باپ کی آنکھیں نم کر دے، ہر بھائی کو غصے سے کانپنے پر مجبور کر دے، اور ہر سمجھدار انسان کو سسٹم کے خلاف کٹہرے میں کھڑا کر دے۔ وہ نوجوان اس طالبہ کو مسلسل ہراساں کر رہا تھا، بلیک میل کر رہا تھا — اور وہ لڑکی جس نے کتابوں سے دوستی کی تھی، آخرکار اس نے بارود سے جواب دینا پڑا۔ یہ کہانی صرف ایک قتل کی نہیں — یہ ایک پورے معاشرے کی ناکامی کی کہانی ہے۔

پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ Human Rights Commission of Pakistan کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر سال ہزاروں خواتین ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں لیکن 90 فیصد سے زائد کبھی رپورٹ درج نہیں کراتیں — کیوں؟ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ تھانے میں عزت جائے گی، انصاف نہیں ملے گا۔ بلیک میلنگ کا شکار لڑکی کے لیے ہر دن ایک نئی موت ہوتی ہے — وہ گھر میں ڈرتی ہے، باہر ڈرتی ہے، فون دیکھ کر کانپتی ہے۔ اس پی ایچ ڈی طالبہ نے بھی شاید وہی سب برداشت کیا جو لاکھوں خاموش لڑکیاں آج بھی برداشت کر رہی ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کے صبر کا پیمانہ ایک دن لبریز ہو گیا — اور اس کے ہاتھ میں ہتھیار تھا۔ سوال یہ ہے کہ اسے خود کو بچانے کے لیے یہ انتہائی قدم اٹھانا کیوں پڑا؟

یہاں ایک تکلیف دہ سچائی سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ اگر اس طالبہ نے اپنے تعلیمی ادارے، یونیورسٹی انتظامیہ، یا ہراسانی کمیٹی سے رابطہ کیا ہوتا تو کیا ہوتا؟ پاکستان میں 2010 کا Protection Against Harassment of Women at Workplace Act موجود ہے جو ہر تعلیمی ادارے کو harassment committee بنانے کا پابند کرتا ہے۔ FIA کا Cyber Crime Wing بلیک میلنگ کے مقدمات سنتا ہے۔ Madadgaar Helpline 1099 خواتین کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ یہ راستے موجود تھے — اب ایک معصوم جان گئی، اور ایک ہونہار طالبہ کا پورا مستقبل عدالتی چکروں میں پھنس گیا۔ پی ایچ ڈی ادھوری رہ گئی، زندگی ادھوری رہ گئی — اور ظالم کو تو سزا مل گئی، لیکن مظلوم کا انجام بھی تاریک ہو گیا۔

پاکستان کی Pakistan Penal Code کی دفعہ 97 اور 100 کے تحت اپنی جان اور عزت کے دفاع میں طاقت استعمال کرنا قانونی حق ہے۔ لیکن self-defence کے لیے فوری خطرہ ثابت کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ شخص اس وقت براہِ راست جانی حملہ کر رہا تھا تو طالبہ کا دفاع قانوناً جائز ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ پہلے سے سوچی سمجھی کارروائی تھی تو پھر یہ قانونی دائرے سے باہر ہے — چاہے اخلاقی ہمدردی کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں انصاف اور انتقام آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ معاشرہ اسے ہیروئن کہے یا مجرم — عدالت صرف ثبوت دیکھے گی، جذبات نہیں۔ اور یہی وہ المیہ ہے جو اس پوری کہانی کو اور بھی دردناک بنا دیتا ہے۔

حتمی سوال یہ نہیں کہ اس طالبہ نے صحیح کیا یا غلط — اصل سوال یہ ہے کہ اسے یہ فیصلہ خود کیوں کرنا پڑا؟ جس معاشرے میں ہراساں ہونے والی لڑکی تھانے جانے سے ڈرے، جہاں استاد سننے کی بجائے چھپانے کی کوشش کرے، جہاں گھر والے “خاموش رہو، بدنامی ہوگی” کہیں — وہاں آخرکار مظلوم خود قانون بن جاتا ہے۔ ہارون آباد کا یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں، یہ ہمارے سڑے ہوئے سماجی ڈھانچے کی چیخ ہے۔ آج ایک لڑکی نے گولی چلائی — کل کوئی اور چلائے گا — پرسوں کوئی اور۔ جب تک نظام نہیں بدلتا، یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر یونیورسٹی میں مضبوط ہراسانی سیل بنے، ہر تھانے میں خواتین کی بات سنی جائے، اور ہر بلیک میلر کو پتہ ہو کہ قانون اس کا پیچھا کرے گا — کوئی مظلوم لڑکی نہیں۔

Comments