اشفاق احمد نے جب وفات پائی تو پیچھے کروڑوں کی جائیداد چھوڑی

اشفاق احمد نے جب وفات پائی تو پیچھے کروڑوں کی جائیداد چھوڑی

مگر بیٹوں کی نیت میں کھوٹ آ گیا۔ انہوں نے بہن کا حصہ ہضم کرنے کے لیے اس کی شادی ایک غریب مزدور سے کر دی تاکہ وہ تنگی میں رہے اور کبھی اپنا حق مانگنے کی ہمت نہ کر سکے۔

وقت گزرا، غربت بڑھی تو مجبور بہن اپنا حق مانگنے بھائیوں کے دروازے پر آئی۔ مکار بھائیوں نے اسے ایک اور جال میں پھنسایا اور بڑی ہمدردی سے کہا، "تم یہ کاغذات ہمارے نام کر دو، ہم تمہارے شوہر کو ایک بڑا کاروبار کروا دیتے ہیں تاکہ تمہاری نسلیں سنور جائیں۔" اس بھولی بہن نے اپنے خون پر اعتبار کیا اور کاغذات پر دستخط کر دیے، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے بھائی ہی اس کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ بھائیوں نے اسے سبزی کی ایک ریڑھی لگوا دی اور اسے دھکے دے کر نکال دیا۔ وہ بہن اس دھوکے پر خون کے آنسو روئی اور پھر کبھی پلٹ کر بھائیوں کی دہلیز پر نہ آئی۔

کئی سال گزر گئے، جب بھائیوں نے وہ جائیداد فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور اصلی کاغذات نکال کر چیک کیے تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ باپ نے مرنے سے پہلے جائیداد کے اصلی کاغذات میں ایک ایسی تحریر لکھوائی تھی جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ باپ نے لکھا تھا: "یہ جائیداد میرے بیٹوں کے پاس صرف ایک امانت ہے، وہ اسے تبھی بیچ سکیں گے جب میری بیٹی اپنی خوشی سے اس پر گواہی دے گی۔ اگر اس نے کسی مجبوری یا دھوکے میں دستخط کیے، تو یہ تمام جائیداد خود بخود ایک یتیم خانے کے نام منتقل ہو جائے گی۔"

بھائیوں کے پاس دستخط تو تھے، مگر بہن کی "خوشی" اور "گواہی" نہ تھی، کیونکہ وہ تو برسوں پہلے انہیں بددعا دے کر جا چکی تھی۔ جائیداد تو ہاتھ سے گئی ہی، مگر ان کے حصے میں وہ ذلت آئی جسے وہ مٹا نہ سکے۔ سچ ہے کہ باپ کا سایہ ختم ہو جائے تو بھی اس کی دعا اور حکمت اولاد کی حفاظت کرتی ہے، اور ظلم چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، قدرت کے انصاف کے آگے ڈھیر ہو جاتا ہے۔

Comments