“بھارت سے آنے والی ایک ایسی فون کال، جس نے مولانا طارق جمیل کے بھی رونگٹے کھڑے کر دیے…”
مولانا طارق جمیل فرماتے ہیں کہ رمضان کے مبارک مہینے میں انہیں بھارت سے ایک خاتون کی کال موصول ہوئی، جس کی آواز میں کرب بھی تھا اور ایمان کی تڑپ بھی۔ اس خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ محض دو ماہ پہلے آپ کے بیانات سن کر میں نے اپنا پرانا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے، لیکن یہ بات میرے گھر والوں کے لیے ایک “خطرناک راز” بن چکی ہے۔
اس کا شوہر ایک سخت گیر ہندو ہے جو رات کو ہوٹل پر کام کرتا ہے اور دن میں گھر آتا ہے۔ وہ خاتون اپنے ساس، سسر اور شوہر سے چھپ کر روزے رکھتی ہے، لیکن اس کی اصل آزمائش تب شروع ہوتی ہے جب اس کا شوہر گھر آتا ہے۔ وہ خاتون روزے کی حالت میں ہوتی ہے، پیاس اور نقاہت سے اس کا برا حال ہوتا ہے، لیکن اس کا شوہر—جو اس کی تبدیلی سے بالکل بے خبر ہے—اپنی خواہش کی تسکین کے لیے اسے اپنے پاس بلاتا ہے اور زبردستی ہم بستری کرتا ہے۔
تصور کریں اس بے بس عورت کا، جو ایک طرف خدا کے حضور روزے سے ہے اور دوسری طرف اپنے ہی گھر میں ایک “درندے” کے ہاتھوں اپنی روح کو زخمی ہوتے دیکھ رہی ہے۔ اس نے مولانا سے پوچھا، “مولوی صاحب! میرا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، میرا جسم کانپتا ہے، لیکن میں اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کر سکتی کیونکہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ کیا اللہ مجھے معاف کر دے گا؟”
یہ سن کر مولانا کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں کہ جہاں ہم جیسے لوگ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر روزے کی سختی کی شکایت کرتے ہیں، وہاں ایک عورت اپنے ایمان کو بچانے کے لیے ہر روز ذلت اور جبر کی اس آگ سے گزر رہی ہے۔ یہ کہانی ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں سجدہ کرنے اور روزہ رکھنے کے لیے کسی سے چھپنا نہیں پڑتا۔
سچ ہے کہ ایمان کی مٹھاس صرف وہی جانتا ہے جس نے اسے تکلیفیں سہہ کر پایا ہو۔

Comments
Post a Comment