35 سال پردیس میں کمائی کی ایئرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا

35 سال پردیس میں کمائی کی ایئرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا

“پیسے کی ہوس نے رشتے کھا لیے…” 35 سال عرب ملکوں میں خ-ون پسینہ ایک کرنے والے شخص کو لاہور ایئرپورٹ سے سیدھا ‘اولڈ ہوم’ کیوں جانا پڑ گیا؟ 💔✈️

یہ کہانی ہر اس پردیسی کے لیے ایک سبق ہے جو اپنی جوانی اور صحت بیوی بچوں کے مستقبل پر قربان کر دیتا ہے۔ محمد نواز نامی شخص، جو فریج اور اے سی ریپئرنگ کا کام کرتے تھے، انہوں نے 10 سال کویت اور پھر 22 سال سعودی عرب میں دھکے کھائے۔

ان 35 سالوں میں انہوں نے اپنی کمائی کا ایک ایک روپیہ بیوی کو بھیج دیا تاکہ کوٹھی نما گھر، گاڑی، جدید موبائلز اور بچوں کے لیے ہر آسائش مہیا کی جا سکے۔ لیکن غربت سے امارت کا یہ سفر ان کی بیوی کو ہضم نہ ہو سکا۔ وہ عورت صرف پیسے کی پجارن بن گئی اور اس نے اپنے شوہر کو محض ایک ‘کمائی کرنے والی مشین’ سمجھ لیا۔

⚠️ کہانی کا دردناک موڑ:
عمر کے اس حصے میں جب نواز صاحب کی صحت نے جواب دے دیا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ بہت کما لیا، اب باقی زندگی پاکستان میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزاریں گے، تو بیوی نے صاف کہہ دیا: “کوئی ضرورت نہیں واپس آنے کی! اگر آئے تو اس گھر کے دروازے تم پر بند ہیں!”

پھر ایک روز جب محمد نواز ساری زندگی کی تھکن لیے لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو ان کی بیوی، بیٹی یا بیٹا کوئی بھی انہیں لینے نہ آیا! ان کے ایک بھتیجے نے آ کر انہیں ریسیو کیا کیونکہ گھر والوں نے صاف انکار کر دیا تھا کہ اسے جہاں مرضی لے جاؤ، ہمارے گھر مت لانا۔

جس شخص نے 35 سال پردیس کی خاک چھانی، آج وہ اپنے ہی بنائے ہوئے گھر سے دربدر ہو گیا۔ غنیمت تھی کہ ان کے پاس کچھ لاکھ روپے باقی تھے، جس کی مدد سے انہوں نے لاہور کے ‘خورشید اولڈ ہوم’ میں پناہ لے لی اور اب پچھلے 3 ماہ سے وہیں رہ رہے ہیں۔

محمد نواز روتے ہوئے آج ہر پردیسی کو ایک ہی مشورہ دیتے ہیں: “بیوی بچوں کو سب کچھ دو، لیکن خدارا اپنے لیے بھی کچھ بچا کر رکھو! بڑھاپے اور بیماری میں رشتوں کی اصلیت کھلتی ہے، اور آج کے دور میں سب سے بڑا رشتہ دار صرف ‘پیسہ’ ہے۔”

اس دردناک حقیقت کو ہر پردیسی اور ہر گھر تک پہنچانے کے لیے پوسٹ کو لازمی شیئر کریں، تاکہ کل کسی اور باپ یا شوہر کے ساتھ یہ ظ-لم نہ ہو سکے۔

Comments